شادیوں کے موسم میں بڑے نوٹوں پر پابندی سے عوام مشکلات میں

دلہن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شادیوں کا موسم ہے اور کرنسی کی قلت

کامران اسلام اور ان کے تمام قریبی رشتے دار ان کی بہن سعدیہ کی شادی کی تیاریوں میں جی جان سے مصروف ہیں۔ شادی کے لیے نہ تو شاپنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی پکوانوں پر بات ہو رہی ہے، نہ زیور پسند کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی ملبوسات۔

دراصل یہ پورا خاندان ہر روز صبح اٹھ کر بینکوں کے باہر لائن میں کھڑا ہو جاتا ہے اور تھوڑا تھوڑا کیش نکلوا کر شام کو اپنے گھر لوٹتا ہے۔

کامران کا کہنا ہے کہ 18 نومبر ان کی بہن اور بھائی دونوں کی شادی ہے اور شادی کے لیے رقم اکٹھا کرنے کے لیے ان کے تمام رشتے دار ان کی مدد میں لگے ہوئے ہیں۔ کیونکہ نہ تو شادی حال کا مالک پرانے نوٹ لینے کو تیار ہے نہ، باورچی اور نہ ہی کوئی چھوٹا یا بڑا دکاندار ہر کسی کو کیش چاہیے اور وہ بھی نئی کرنسی میں۔

کامران کہتے ہیں کہ وہ اپنی بہن کو دینے کے لیے سامان نہیں خرید نہیں پا رہے۔ بارات کے کھانے کا انتظام بھی بہت کم پیسوں میں کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صرف کامران کا خاندان ہی نہیں بلکہ بے شمار گھرانے اس مشکل سے دوچار ہیں اس وقت شادیوں کا سیزن ہے اور لوگ حکومت کے اس اچانک فیصلے سے بوکھلا گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت لو شادی کی شاپنگ نہیں بلکہ بینک کی لائنوں میں مصروف ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس 'کالا دھن' نہیں بلکہ اپنے بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے لیے سالوں سے جمع کی گئی رقم ہے جو اس فیصلے کے بعد ردی کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کامران کا کہنا ہے کہ شاید انہیں اب منہ دکھائی اور سلامی بھی پرانے نوٹوں میں دینی پڑے گی۔

تیمور کیش کی قلت کے سبب روز کی سبزیاں کلو میں نہیں عدد میں خرید رہی ہیں۔ تیمور کہتی ہیں کہ اب وہ دو پیاز اور تین تماٹر اور چار ہری مرچوں کے حساب سے سودا خرید رہی ہیں۔ کیونکہ چھوٹے بچوں کے ساتھ وہ گھنٹوں بینک کے باہر لائن میں کھڑی نہیں ہو سکتیں تو جو ہے اس لیے کیش قطرہ قطرہ کر کے خرچ کر رہی ہیں۔

ہارڈویئر کا کام کرنے والے آفتاب کا کہنا ہے بینک کے باہر چار گھنٹوں کی مشقت کے بعد بڑی مشکل سے انھیں دو ہزار کا نوٹ مِلا لیکن جب اپنے ایک سالہ بچے کے لیے دودھ کا ڈبہ لینے گئے تو دکاندار کے پاس واپس دینے کے لیے کیش نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا میں شادیوں میں نوٹوں کے ہار دینا عام بات ہے

انڈیا ایک ایسا ملک ہے جہاں زیادہ تر کام کیش پر ہوتا ہے اور اس وقت ملک کا تقریباً 86 فیصد کیش استعمال کے قابل نہیں۔ نئے نوٹ تو مارکیٹ میں ہیں لیکن آبادی اور استعمال کے تناسب سے یہ ناکافی ہیں۔

دہلی کے ہی سید حامِد خضر نے مودی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم تو کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ روز مرہ کی زندگی اس وقت خاصی مشکل ہے کیونکہ اس فیصلے کا نفاذ ٹھیک طرح سے نہیں ہوا۔

23 سالہ موعظ ایک ٹریول ایجنسی میں کام کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہ سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے اس لیے مودی حکومت کے اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ کافی عرصے سے ایک چھوٹا سا مکان خریدنے کی کوشش میں ہیں لیکن مکان کے لیے آدھی سے زیادہ رقم بلیک میں مانگی جا رہی تھی جو ان کی حیثیت سے باہر تھا لیکن اب وہ امید کر رہے ہیں کہ قیمتیں کم ہوں گی اور بلیک میں رقم بھی نہیں دینی پڑے گی۔

مودی حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں یا پھر یہ کہ اس فیصلے کے دور رس اور بہتر نتائج سامنے آئیں گے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے اور ٹی وی چینلز کے اینکرز اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے ترجمان چیخ چیخ کر یہ کام کرنے میں مصروف ہیں۔

متعلقہ عنوانات