انڈیا میں نوٹوں پر پابندی سے مریضوں کی پریشانیوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں لوگ ہر روز کھڑے ہو رہے ہیں لیکن ان کی پریشانیاں کم ہوتی نہیں دکھتیں۔ ملک کے تمام بڑے شہروں کا تقریبا یہی حال ہے

انڈیا میں 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کرنے سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور تمام کوششوں کے باوجود ابھی تک حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں لوگ ہر روز کھڑے ہو رہے ہیں لیکن ان کی پریشانیاں کم ہوتی نہیں دکھائی دیتی ہیں اور ملک کے تمام بڑے شہروں کا تقریباً یہی حال ہے۔

’کل بیٹی کی شادی ہے اور ہاتھ میں پیسہ نہیں‘

انڈین میڈیا کے مطابق رقم کی قلت کے سبب یا پھر نئے نوٹوں کے حصول کے چکر میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاست جھارکھنڈ کے ایک مقامی صحافی روی کرن کا کہنا ہے کہ گھاٹ شلا کے ہيرا گنج کے رہائشی شنکر نماتا کی بیٹی نندنی کا پرانے نوٹوں کی وجہ سے وقت پر علاج نہ ہو سکا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔

نندنی ملیریا میں مبتلا تھیں اور گھر میں صرف 500 کے کچھ پرانے نوٹ ہی بچے تھے۔ ان کے لواحقین نوٹ بدلوانے کے لیے چکر لگاتے رہے لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAJESH SINGH
Image caption نندنی کے گھر والے پیسے نکوالنے گغے تھے لیکن واپس آئے تو وہ انتقال کر چکی تھیں

نندنی کے پھوپھا اتپل وشواس نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے نندنی کو فوری طور پر جمشید پور کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ نندنی کے والد شنکر نماتا معذور ہیں۔ 'وہ کہیں آ جا نہیں سکتے۔ لہذٰا وہ اور ان کے ایک اور رشتے دار دو الگ الگ اے ٹی ایم کی لائن میں لگے تھے۔ وہاں کافی بھیڑ تھی۔ ایسے میں پیسے نکالنے میں بہت دیر ہو گئی۔ وہ اے ٹی ایم سے دو ہزار روپے لے کر نرسنگ ہوم تک پہنچتے کہ نندنی کی موت ہوچکی تھیں۔'

ہسپتال کے آپریٹر رنجیت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ نندنی کو فوری طور پر خون لگانے کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے ان کے رشتے دار پیسے نکالنے گئے تھے۔ اس درمیان مریض کی حالت کافی بگڑ گئی اور انھیں بچایا نہیں جا سکا۔

ادھر ضلع پلامو کے محمد گنج میں رام چندر پاسوان نامی ایک بزرگ شخص اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ اپنے پرانے نوٹ تبدیل کروانے کے لیے بینک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے بیٹے ارجن پاسوان نے بتایا: 'بینک میں داخل ہوتے وقت دھکم پیل کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پیسے نکالنے کے چکر میں دوسرے لوگ انہیں كچلتے ہوئے بینک میں گھسنے لگے۔ ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ABHA SHARMA
Image caption حکومت کی ہدایات کے مطابق ہسپتالوں میں پرانے نوٹ لینے کی اجازت ہے لیکن بہت سے ہسپتال منع کر دیتے ہیں

شہر جے پور کی مقامی صحافی آبھا شرما کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لواحقین نقد کرنسی نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پيتامبر سونی نام کے شخص اپنے بھتیجے کا علاج کروانے کے لیے جے پور میں ہیں۔ ان کا بھتیجا ڈینگی بخار میں مبتلا ہے۔ لیکن ان کی فکر صرف اس کی طبیعت تک محدود نہیں بلکہ نقد ی کا بندوبست کرنے اور بینک سے پرانے نوٹ تبدیل کرانے کی بھی انہیں فکر ستا رہی ہے۔

پيتامبر سونی نے بتایا: 'بینک جاتے ہیں تو لمبی قطار کی وجہ سے نمبر ہی نہیں آتا ہے۔ کبھی درمیان سے بھاگ کر ہسپتال آنا پڑتا ہے۔ میں ابھی اپنے جان پہچان والے افراد کی مدد سے اپنا کام چلا رہا ہوں۔ ‘

جے پور میں ہی لال سوٹ سے آنے والی سلطانہ نے بتایا: 'بچی ہسپتال میں پڑی ہے۔ بینک والے کہتے ہیں ہسپتال والے پرانے نوٹ لے لیں گے۔ لیکن یہاں یہ لوگ لیتے نہیں ہیں۔'

پٹنہ شہر کی صحافی سیٹو تیواری بتاتی ہیں کہ 19 سال کے متھلیش اس وقت خود کو دنیا کا سب سے تنہا آدمی محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ماں کو علاج کے لیے پٹنہ لے کر آئے ہیں لیکن پیسوں کی قلت کے سبب وہ بہت پریشان اور تنہا پڑ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے کرنسی نوٹ بازار میں آئے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ابھی ان کی شدید قلت ہے

متھلیش نے بتایا: 'کوڈرما میں میری ماں کا حادثہ ہو گیا تھا، ان کے سر پر چوٹ آئی تھی۔ اچھے علاج کے لئے پٹنہ کے ایک نجی ہسپتال لے کر انھیں آیا ہوں۔ بہن ہسپتال میں ماں کو دیکھتی ہے اور میں بینک اور ہسپتال کے درمیان پھنسا ہوں۔'

متھلیش بتاتے ہیں:'ہسپتال والے پیسہ نہیں لے رہے ہیں۔ انھوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ 500 اور 1000 کے نوٹ نہیں لیں گے۔ ہسپتال کو کریڈٹ کارڈ سے پیسے دے رہے ہیں لیکن باقی کے اخراجات کے لیے کہاں جائیں۔'

اس وقت انڈیا کے مختلف شہروں میں نقد کرنسی کی قلت کے سبب افرا تفری کا ماحول ہے اور اس سے سبھی طبقے کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کے گھروں میں شادیاں ہیں یا پھر جنھیں علاج کے لیے پیسے چاہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں