آپ کی بس جانے والی ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے گذشتہ تقریبا دس روز سے لوگ کافی پریشان ہیں

اگر آپنے انڈیا کے دیہی علاقوں میں کبھی بسوں میں سفر کیا ہے تو آپ نے چورن، سرما یا بام بیچنے والے اس شخص کو ضرور دیکھا ہوگا جس کے پاس ہر مرض کی ایک ہی دوا ہوتی ہے۔

ان کا ایک الگ ہی سٹائل ہوتا تھا۔ بس کی چھت پر ہاتھ مارا اور شروع ہوگئے: بھائیو اور بہنوں، بس آپ کی جانے والی ہے! لیکن اس سے پہلے میری بات دھیان سے سن لیجیے، آپ مجھے زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اگر آپ کا بچہ سوتے سوتے جاگ جاتا ہے، اگر اس کے دانت میں درد ہے، ہر صبح اس کا پیٹ صاف نہیں ہوتا، پیٹ کے درد سے کراہتا رہتا ہے، دن بھر کھاتا ہے لیکن کھانا جسم کو نہیں لگتا، دانتوں میں پیلا پن ہے یا کیڑا لگ رہا ہے، سوتے میں دانٹ کٹکٹاتا ہے، صبح اٹھنے میں پریشان کرتا ہے۔۔۔ تو بس آپ کی فکر آج ختم ہوگئی!

ہمارے پاس امروہے والے بڑے حکیم صاحب کا خاندانی چورن ہوا کرتا ہے، دانت میں درد ہے دانت پر لگائیں اور پانچ منٹ بعد تھوک دیں، پیٹ میں درد ہے تو ایک چٹکی پانی میں ملاکر پی لیں۔۔۔ قیمت صرف تین روپے، تین روپے، تین روپے، آرام نہ ملے تو لوٹتے ہوئے مجھے واپس کر دیجئے گا، میں بیس سال سے اسی سٹینڈ پر ملا کرتا ہوں!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہزآر کے نئے نوٹ بازار میں آئے ہیں لیکن ان کی قلت ہے اور اگر ملتے ہیں تو ان کے کھلے پیسے ملنا مشکل ہے

یہی حال آج کل انڈیا میں ہوگیا ہے۔ حکومت نے بڑے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا اور اس فیصلے کو ہر مرض کی دوا بتایا جارہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کالے دھن کا مسئلہ ختم ہو جائے گا، دہشتگردی کی کمر ٹوٹ جائے گی، فرضی کرنسی کی فکر صرف ایک دھندلی سی یاد رہ جائے گی، معیشت کی گاڑی تیزی سے ترقی کی پٹری پر دوڑے گی، مہنگائی کم ہوجائے گی، بینکوں میں لیکویڈٹی بڑھے گی تو سود کی شرح کم ہوگی، سود کم ہوگا تو آپ کی قسطیں کم ہوں گی، آپ کی جیب میں زیادہ پیسے ہوں گے۔۔۔۔۔ تو آپ سب غم بھول جائیں گے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ سب ہو جائے کیونکہ حکومت کو اس فیصلے سے کافی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ ملک میں تقریباً پندرہ لاکھ کروڑ روپے کی کرنسی ختم کی گئی ہے۔ یہ کیش کچھ بینکوں کے پاس ہے اور کچھ عام لوگوں کے، جو رقم عام لوگوں کے پاس ہے اس کا ایک حصہ کالے دھن کی شکل میں ہے جو بنکوں میں جمع نہیں کرایا جائے گا اور ضائع ہوجائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کاروبار ڈیجیٹل طریقوں سے ہو تاکہ ٹیکس کی چوری روکی جاسکے

یہ رقم تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے ہو سکتی ہے، زیادہ بھی لیکن یہ صرف تخمینے ہیں۔ بات ذرا پیچیدہ ہے لیکن یوں سمجھ لیجیے کہ جو بھی رقم بینکوں میں جمع نہیں ہوگی، وہ ایک طرح سے ریزرو بینک کے لیے منافع ہے، اور کچھ قانونی پیچیدگیاں ہیں لیکن انجام کار یہ پیسہ حکومت کو مل سکتا ہے، پھر وہ اس کا جو چاہے کرے۔

لیکن فی الحال، لوگوں کے دانت میں بدستور درد ہے اور چورن لگانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

ازالے کے لیے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب آپ پٹرول پمپ سے بھی دو ہزار روپے لے سکتے ہیں۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ اب پٹرول بھروانا بھی مشکل نہ ہوجائے۔

حکومت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کاروبار ڈیجیٹل طریقوں سے ہو تاکہ ٹیکس کی چوری روکی جاسکے۔

ڈیجیٹل پیمنٹ کی شرح میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فی الحال زیادہ تر لوگوں کے پاس کیش نہیں ہے۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ جب کیش کی سپلائی ٹھیک ہو جائے گی، تب بھی لوگ کارڈ اور آن لائن بینکنگ کا ہی استعمال کریں گے یا واپس کیش کی طرف لوٹ جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Huw Evans picture agency
Image caption دلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، بینکوں کے پاس بہت پیسہ ہے

لیکن یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ دیہی علاقوں میں نہ فی الحال کارڈ کے استعمال کی سہولیات ہیں اور نہ لوگوں کی دلچسپی۔

لگتا نہیں ہے کہ مویشیوں کی خرید و فروخت کبھی کارڈ یا چیک سے ہوگی، دیہات میں زندگی کیش سے چلتی ہے، جہیز سے لیکر فصل تک، صرف نوٹوں کا وزن دیکھا جاتا ہے۔

اور جو رقم اب بینکوں میں جمع کی جارہی ہے، اس میں ایک بڑا حصہ ان لوگوں کا ہے جو کیش کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اس سوچ کو بدلنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

دلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، بینکوں کے پاس بہت پیسہ ہے!

یہ تو سب کو معلوم ہے لیکن اس سے دانت کا درد تو کم نہیں ہوتا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں