کالے دھن پر پابندی یا سستی شہرت کی تمنا؟

کرنسی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک جائزے کے مطابق انڈیا میں 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر کی شب اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی۔ اس وقت تقریباً 15لاکھ کروڑ روپے مالیت کے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بھارت میں جاری تھے جو تمام نوٹوں کا 85 فی صد بنتا ہے۔

مودی نے ایک حکم سے 85 فیصد روپے ردی میں بدل دیے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد کالے دھن یا بلیک منی کو ختم کرنا ہے۔ کیا اس قدم سے واقعی کالا دھن پر قابو پایا جا سکے گا؟

کالا دھن عمومآ جائز آمدنی سے حاصل ہونے والی رقم پر ٹیکس نہ ادا کرنے سے بنتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نقدی کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اب لوگ مختلف وجوہات سے نقدی رکھنا پسند نہیں کرتے اور وہ ان رقوم کو کاروبار اور جائیداد میں لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ کالا دھن معیشت میں متحرک رہتا ہے۔

ایک جائزے کے مطابق 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن بیشتر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ نقدی کی شکل میں کالے دھن کی مقدار اس سے بہت کم ہے۔ گذشتہ دس دنوں سے کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کے لیے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی باری کا گھنٹوں تک انتظار کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ حکومت نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی یومیہ حد دو ہزار مقرر کی ہے، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دس دنوں سے کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کے لیے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی باری کا گھنٹوں تک انتظار کرتے ہیں

حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے قدم کو اقتصادی نہیں سیاسی قرار دے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کالے دھن پر قابو پانا نہیں ہے۔ لیکن مودی حکومت اسے ماسٹر سٹروک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی حکومت نے یہ اندازہ لگايا تھا کہ چند ہی دنوں کے اندر پورے ملک میں نئے نوٹ لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور ماحول نارمل ہوتے ہی حکومت یہ دعویٰ کر سکے گی کہ ملک میں کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا چلن ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

بڑے نوٹوں پر پابندی کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں کم ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں۔

محتلف تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق بھارت کے سیاست دانوں، سرمایہ کاروں، تاجروں اور بڑے بڑے لوگوں نے 50 سے 80 لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں غیر ممالک سے کالا دھن ملک واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بظاہر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ اور غیر موثر ہے۔ اس میں اصلاح اور شفافیت کے ذریعے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ گذشتہ مالی برس میں صرف پانچ کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن بھرے تھے جو پوری آبادی کا محض چار فی صد بنتا ہے۔

ٹیکس کے نظام میں بہتری اور اسے سہل بنا کر بہت کم وقت میں ٹیکس ریٹرن بھرنے والوں کی تعداد چار فی صد سے بڑھا کر 25 سے 30 فی صد تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے اختیارات محض انتظامی پہلوؤں تک محدو کر کے سرکاری محکموں میں رشوت خوری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انتخابی اخراجات کی ذمہ داری حکومت کو دینے کی سفارشیں بھی کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے

مودی حکومت نے بڑے نوٹوں پر پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی ہے جب اتر پردیش اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی کی حریف جماعتیں ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اپنی انتخابی مہم حال ہی میں شروع کی ہے۔ ان انتخابات میں کروڑوں روپے جائز اور ناجائز طریقے سے صرف ہوتے ہیں۔

نوٹوں پر بابندی کا مقصد ان دونوں حریف جماعتوں کو سیاسی چوٹ پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔ اتر پردیش کے انتخابات بھی جے پی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا۔ لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے۔

مودی نے ملک کے عوام سے دسمبر تک کا وقت مانگا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بڑے نوٹوں پر پابندی سے اس مدت میں ملک میں معیشت سے کالا دھن ختم ہو جائے گا۔

حکمران جماعت کے وزرا اس قدم کی کامیابی کا پہلے سے ہی اعلان کرنے لگے ہیں۔ وزیر اعظم کو ملک کی تاریخ کا سب سے اہل اور سب سے ایمان دار رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن عوام انھیں کس طرح دیکھ رہے ہیں، یہ جاننے میں ابھی ذرا وقت لگے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں