انڈیا اپنے حصے کا پانی پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے سکتا: مودی

مودی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مودی پہلے بھی عندیہ دیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر کارروائی کی جا سکتی ہے

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے دریائے سندھ کے حوالے سے کہا ہے کہ جو پانی انڈیا کا ہے اسے پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے ریاست پنجاب کے شہر بھٹنڈہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے کاشت کاروں کو وافر مقدر میں پانی فراہم کرنے کے لیے ہر قدم اٹھائے گی۔

سندھ طاس معاہدے سے ’یکطرفہ طور پر علیحدہ نہیں ہوا جا سکتا‘

وزیراعظم مودی نے کہا کہ'دریائے سندھ میں بہنے والے پانی پر ہمارے کسانوں کا حق ہے ۔ حکومت نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے جو اس پہلو کا جائزہ لے رہی ہے کہ کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت جو پانی پاکستان جاتا ہے اس کا کس طرح زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔'

سندھ طاس معاہدے پر انڈیا اور پاکستان نے 1960 میں دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کے تحت پنجاب میں بہنے والے بیاس، راوی اور ستلج دریاؤں کے بانیوں پر انڈیا کا کنٹرول ہے جبکہ سندھ، چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کے اختیار میں دیا گیا ہے۔ دریائے سندھ انڈیا سے نکلتا ہے لیکن انڈیا کو اس کا صرف 30 فیصد حصہ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

انڈین پنجاب میں اسمبلی انتخابات سے قبل بظاہر ریاست کے کاشکاروں کو پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ انڈیا کے حصے کے دریائے سندھ کا ایک ایک قطرہ پاکستان جانے سے روک دیں گے اور وہ یہ پانی جموں و کشمیر، پنجاب اور دوسرے خطوں کے کاشت کاروں کو دیں گے ۔

انھوں نے سابقہ حکومتوں پر چوٹ کرتے ہوئے کہا:'انڈیا کا پانی پاکستان جاتا رہا اور دلی میں حکومتیں آتی رہیں، جاتی رہیں، سوتی رہیں اور ہمارے کاشت کار پانی کے لیے روتے رہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی سربراہی میں طے پایا تھا۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ماضی کی جنگوں اور لڑائیوں کے درمیان بھی یہ معاہدہ قائم رہا اور کبھی اس کے بارے میں سوال نہیں اٹھا۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاہدے پر نظر ثانی کی بات کی ہے۔

ستمبر میں زیراعظم نریندر مودی نے پانی کی تقسیم پر پاکستان کے ساتھ معاہدے پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

انڈین اخبارات میں شائع ہونے والے خبروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد کہا تھا: 'خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے۔'

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے اس معاہدے کے سلسلے میں انڈیا کوئی نہ کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ انڈیا اور پاکستان کے مابین 1960 میں طے پایا تھا جس کے تحت کشمیر سے گزرنے والے تین دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا جو ان دریاؤں کا 80 فیصد پانی استعمال کرتا ہے۔

اس پر پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں