مذہبی نفرتوں کے لیے ٹرمپ کو الزام نہ دیں

بنگلہ دیش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں مسلمانوں نے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرہ کیا ہے

خلائی سیاروں سے حاصل کی گئی حالیہ تصویروں سے برما کے رخائن صوبے میں واقع روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کا پتہ چلتا ہے۔ گذشتہ دو ہفتے میں برمی فوج نے روہنگیا کے ہزاروں گھروں کو تباہ کردیا ہے ۔ درجنوں بستیاں ویران ہو چکی ہیں۔ ہزاروں روہنگیا مسلم پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ برما روہنگیاؤں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ رونگیاؤں پر ہونے والے خوفناک مظالم پر پوری دنیا خاموش ہے۔

گذشتہ جمعے کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں مسلمانوں نے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ملک کی سرحدیں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کھول دے۔ ڈھاکہ میں یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کی ہندو اور بودھ مذہبی اقلیتیں سخت گیر مزہبی مسلم تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پروفیسربرکات نے بتایا کہ مذہبی تفریق اور نفرت کے سبب سنہ 1964 سے سنہ 2013 تک ایک کروڑ 13 لاکھ ہندو بنگلہ دیش چھوڑ چکے ہیں

یہ وہی بنگلہ دیش ہے جہاں ہر روز مذہب کے ستائے ہوئے اوسطاً چھ سو سے زیادہ ہندو ملک چھوڑنے کےلیےمجبور ہورہے ہیں۔ ملک کے معروف پروفیسر ڈاکٹر ابوالبرکات نے متنبہ کیا ہے کہ مذہبی تعصب، تفریق اور ظلم کےسبب جتنی بڑی تعدار میں ہندو بنگلہ دیش چھوڑ رہے ہیں اس لحاظ سے 30 برس بعد بنگلہ دیش میں ایک بھی ہندو باقی نہیں بچے گا۔

پروفیسربرکات نے بتایا کہ مذہبی تفریق اور نفرت کے سبب سنہ 1964 سے سنہ 2013 تک ایک کروڑ 13 لاکھ ہندو بنگلہ دیش چھوڑ چکے ہیں۔ اوسطاً 630 ہندو روزانہ بنگلہ دیش سے کہیں اور جا رہے ہیں۔ کسی جمہوری ملک کےلیے اس سے شرمناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کےاپنے شہریوں کو ان کے مذہبی عقیدے کےسبب اپنا ملک ترک کرنا پڑا ہو۔

پاکستان میں بھی مذہبی اقلتیوں کو تفریق اور نفرتوں کا سامنا ہے ۔ کئی ہندو ہر برس ملک چھوڑ کردوسرے ملکوں کا رخ کررہے ہیں ۔ پاکستان میں یہ تکلیف دہ پہلو نہ بحث کا موضوع ہے اورنہ ہی یہ ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کئی عشروں سے شیعہ مساجد، سکول، امام بارگاہیں یہاں تک کہ تہوار بھی شدت پسندوں کی زد میں ہیں۔

ملک کی ایک دوسری اقیلت احمدیہ برادری کو نہ صرف غیرمسلم قرار دیا گیا ہے بلکہ ان کا مذہبی عقیدہ ہی اکثر ان کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔

پڑوسی ملک بھارت بھی ایک جمہوری ملک ہے۔ مذہبی رواداری اس ملک کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ مذہبی ہم آہنگی باہمی احترام اور رواداری کی یہ روایت اس وقت زبردست دباؤ میں ہے۔ سخت گیر ہندو تنظمیں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔ مذہبی نوعیت کے پر تشدد واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ امن و محبت اورروحانیت کا پیغام دینے کے بجائے بہت سےمذہبی رہنما اب نفرتوں کی تبلیغ کررہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں سخت گیر ہندو تنظمیں تیزی سے ابھر رہی ہیں

مذہبی منافرت اب سیاست سے نکل کر عوام کے ذہنوں میں داخل ہو رہی ہے۔ انسان انسان سے اجببی ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کےدوران کئی سیاسی جماعتوں نے آسام میں عشروں سے آباد لاکھوں بنگالی مسلمانوں کو بےریاست کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں کے لاکھوں مسلمانوں کوروہنگیا جیسے مستقبل کا خدشہ لاحق ہے۔ ہر طرف فضا میں ایک بے چینی سی ہے۔

مسلمانوں کےبارے میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات پر ہر طرف نکتہ چینی ہو رہی ہے ۔ لیکن اپنےخیالات میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ انسانی تہذیب ایک خطرناک دورسے سے گزر رہی ہے۔ اقتصادی بے یقینی نے مذہبی نفرت اور جنون کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔ مذہب اب امن محبت اور آشتی کا نام نہیں، یہ نفرت، تشدد اور تفریق کی بنیاد بن چکا ہے۔

مذاہب انسانیت کی بقا کےلیے وجود میں آئے تھے آج انسانیت ہی مذہبی جنون اور مذہبی انتہا پسندی کی زد میں ہے۔ یہ ایک عالمی اجتماعی نفسیات کی عکاس ہے ۔ انسانی تہذیب کی اس منزل پر دنیا میں مذہبی منافرت اورتشدد کے مبلغوں کا غلبہ ہے۔ نفرتوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک موجودہ اقتصادی نظام میں ایک ٹھہراؤ نہیں آ جاتا۔ انسانی تاریخ کا یہ ایک انتہائی مشکل اور طویل مرحلہ ہے۔

اسی بارے میں