ہرمندر سنگھ منٹو کون ہے؟

ہرمندر سنگھ منٹو تصویر کے کاپی رائٹ Punjab police

نابھا جیل سے فرار ہونے والے ہرمندر سنگھ کا تعلق خالصتان لبریشن فورس ہے جس کی بنیاد 1986 میں ارور سنگھ اور سکھویندر سنگھ ببر نے رکھی تھی۔

بھارتی حکومت نے 1995 میں خالصتان لبریشن فورس کو خالصتان کی تحریک میں سرگرم چار بڑی تنظیموں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارتی پنجاب کی آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔

خالصتان لبریشن فورس کے رہنماؤں کی موت کے بعد ہرمندر سنگھ منٹو نے سن دو ہزار میں خالصتان لبریشن فورس کا سربراہ ہونے کااعلان کیا۔

جالندھر ضلع کے گاؤں ڈالی میں پیدا ہونے والے ہرمندر سنگھ منٹو کو آخری بار 2004 میں دیکھا گیا۔ ڈالی گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ ہرمندر سنگھ منٹو کا خاندان گوا میں منتقل ہو چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہرمندر سنگھ جیل سے بھاگنے کے بعد گوا جانے کی کوشش کر رہا تھا جہاں سے اسے بیرون ملک جانا تھا۔

پولیس کا الزام ہے کہ ہرمندر سنگھ منٹو کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے چھ سے سات ماہ تک تربیت دی۔

دو سال قبل ہرمندر سنگھ منٹو کو دہلی کے اندرا گاندھی ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ تھائی لینڈ سے واپس انڈیا آ رہے تھے۔

ہرمندر سنگھ منٹو انڈیا میں کئی مقدموں میں مطلوب تھے لیکن کچھ عرصے بعد انھیں دو مقدموں میں ضمانت مل گئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ہرمندر سنگھ منٹو ملائیشیا کے جعلی پاسپورٹ پر یورپ کے علاوہ کئی اور ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ خالصتان لبریشن فورس کے تمام بڑے رہنما مارے جا چکے تھے، ہرمندر سنگھ نے خود کو تنظیم کا سربراہ سمجھنا شروع کر دیا۔

ذرائع کا کہنا کہ نابھا جیل پر حملہ کرنے والے دراصل کچھ اور مجرموں کو چھڑانے کے لیے آئے تھے لیکن ہرمندر سنگھ اور کشمیر سنگھ کو بھی جیل سے رہا کروا لیا۔

اسی بارے میں