یہ فوجی بغاوت ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں فوج کو عام طور پر سیاست سے الگ ہی رکھا جاتا ہے

مغربی بنگال کی راجدھانی کولکتہ میں کچھ ٹول پلازوں پر فوجی اہلکاروں کی ’تعیناتی‘ کے بعد ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے پوری رات اپنے دفتر میں ہی گزاری اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ فوجی بغاوت ہے؟

لیکن فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشق ہے جو نو مشرقی ریاستوں میں کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوج کتنے ٹرکوں اور بسوں کی خدمات حاصل کرنے کی امید رکھ سکتی ہیں۔

فوج کے مطابق یہ مشق ہر سال کی جاتی ہے لیکن ممتا بینرجی کا دعویٰ ہے کہ ریاستی حکومت کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق فوج کو ’ماک ڈرل‘ یا مشق کرنے کے لیے بھی ریاستی حکومت کی اجازت لینا ہوتی ہے جو اس کیس میں نہیں لی گئی۔

ممتا بینرجی کے الزامات پر جمعہ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی جم کر ہنگامہ ہوا لیکن وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو اس مشق کی اطلاع تھی اور پولیس کے مشورے پر ہی اسے دو دن آگے بڑھایا گیا تھا۔ پہلے یہ مشق نومبر کے آخری ہفتے میں ہونا تھی۔

فوجی کولکتہ میں سیکریٹیریٹ کے قریب ایک ٹول پلازے پر بھی تعینات تھے لیکن انھیں رات میں ہٹا لیا گیا۔ اس کے باوجود وزیر اعلیٰ پوری رات دفتر میں ہی رہیں۔

انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’جمہوریت کی حفاظت کے لیے میں اپنے دفتر میں ہی رہوں گی‘ اور یہ کہ ریاست کے کئی دوسرے اضلاع میں بھی فوج کے جوان تعینات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممتا بینرجی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے ساتھ مل کر انڈیا میں نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں

فوج کے دعوے کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن آپ لوگوں کو گمراہ مت کیجیے۔‘

ممتا بینرجی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے ساتھ مل کر انڈیا میں نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں۔

رواں ہفتے ان کے ایک رکن پارلیمان نے الزام لگایا تھا کہ کولکتہ میں وزیر اعلیٰ کو اس وقت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب ان کے جہاز کو ترجیحی بنیاد پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو مطلع کیا تھا کہ جہاز میں ایندھن بہت کم ہے۔

اس واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے لیکن اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرول اور پائلٹ کے درمیان غلط فہمی کی وجہ سے ایسا ہوا تھا۔

انڈیا میں فوج کو عام طور پر سیاست سے الگ ہی رکھا جاتا ہے لیکن ممتا بینرجی کے الزامات کے پس منظر میں فوج کے مشرقی کمان کی جانب سے جمعہ کی صبح ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں کہا گیا کہ ٹول پلازوں پر تعینات جوان غیر مسلح تھے اور صرف بوقت ضرورت قابل استعمال ٹرکوں اور بسوں کی تعداد کا اندازہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

فوج نے ترنمول کانگریس کے ایک رکن پارلیمان کے اس الزام کو بھی یکسر مسترد کیا ہے کہ فوجی ان ٹول پلازوں پر پیسے اکھٹا کر رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں