افغان کانفرنس پر انڈیا، پاکستان کشیدگی کا سایہ

پاکستان کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاٹ آف ایشیا کانفرنس انڈیا کے شہر امرتسر میں شروع ہو گئی ہے

افغانستان میں سیاسی اوراقتصادی امن و استحکام کے قیام کے سوال پر انڈیا کے سرحدی شہر امرتسر میں سنیچر سے دو روزہ 'ہاٹ آف ایشیا کانفرنس' شروع ہو گئی ہے۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج علیل ہیں۔ ان کی جگہ سینیئررہنما اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی کانفرنس کی میزبانی کررہے ہیں۔

کیا سرتاج رشتوں کے جمود کو توڑ سکیں گے؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ملاقات کی امیدیں معدوم

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اورافغانستان کے صدر اشرف غنی ہفتے کی شام امرتسر پہنچیں گے۔ اس کانفرنس کے لیے حکومت ہند نے امرتسر کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ نہ صرف یہ روحانیت اورتاریخ کاایک اہم مقام ہے بلکہ یہ ماضی میں افغانستان، ایران اور وسطی ایشیائي ممالک جانے کا ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔

کانفرنس سے قبل انڈیا اور افغانستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنےکے لیے ایک علاقائی فریم ورک تیار کرنے پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں 'کاؤنٹر ٹریرزم' کےفریم ورک پرغور کیا جائے گا۔

انڈیا خطے میں دہشت گردی کے لیے پاکستان کو ذمے دار ٹھہراتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ افغانستان اور انڈیا میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف پاکستان مدد کرتا ہے بلکہ انھیں پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

انڈیا کا خیال ہے کہ افغانستان میں یہی تنظیمیں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔ افغانستان انڈیا کے موقف سے متفق نظر آتا ہے۔ گذشتہ دنوں جس طرح کے بیانا ت سامنے آئے ہیں ان سے لگتا ہے انڈیا اور افغانستان دہشت گردی کےسوال پر امرتسر کانفرنس میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کریں گے۔ انڈیا بین الاقوامی برادری کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا اصل مسئلہ پاکستان میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہاٹ آف ایشیا کانفرنس میں 14 رکن ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں

انڈیا اور افغانستان کے الزامات کو پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاکستان کے ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار گذشتہ برسوں میں دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی فوج نے شدت پسندوں کےخلاف مہم چلا رکھی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اس کانفرنس میں پاکستان کے وفد کی قیات کریں گے۔ وہ پاکستان کے موقف کا دفاع کریں گے۔ پاکستان کا کہنا ہے انڈیا، افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے تلخ رشتوں کا سایہ اس کانفرنس پر بھی پڑرہا ہے۔

سرتاج عزیر انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کی عیادت کے لیے ان سے دہلی میں ملنا چاہتے تھے۔ پروگرام کے مطابق وہ اتوار کی صبح امرتسر پہنچیں گے اور شام میں ہی لوٹ جائیں گے۔انڈین قیادت سے باہمی نوعیت کی کسی میٹنگ کا کوئی ذکرنہیں ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ہفتے ایک فوجی کیمپ پرشدت پسندوں کے حملے کے پس منطر میں وزیر اعظم نریندر مودی کسی طرح کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

انڈین میڈیا کا اگر جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہےکہ 'ہاٹ آف ایشیا' کانفرنس افغانستان میں امن و استحکام اور پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑنےکے پہلوؤں پرغور کرنےکے لیے نہیں بلکہ پاکستان اور انڈیا کے ٹکراؤ کا ایک پلیٹ فارم بن گئی ہے۔

کانفرنس میں افغانستان میں سلامتی اور استحکام کے حوالے سے کئی اہم پہلوؤں پرغور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کانفرنس سے اتوار کو خطاب کریں گے۔

انڈیا میں ساری توجہ سرتاج عزیز پر مرکوز ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں ان کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہو گا۔ کیا وہ وزیر اعظم مودی کے لیے وزیراعظم نوازشریف کا کوئی پیغام لے کر آئیں گے؟

کیا ان کی آمد سے دونوں ممالک کےدرمیان تعلقات کا جمود ٹوٹ سکے گا؟ موجودہ حالات میں جمود ٹوٹنے کے کوئی آّثار نظر نہیں آتے۔ تاہم انڈیا میں مذاکرات کےحامی اور امن پسند دانشور اور مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امرتسر کے راستے امن کی شروعات کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں