چین میں ٹائٹینک بحری جہاز کی ہوبہو نقل کی تعمیر شروع

ٹائیٹینک
،تصویر کا کیپشن

اصل جہاز کو ہارلینڈ اور وولف نے بیلفاسٹ میں تیار کیا تھا جو بحر اوقیانوس میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا

چین کے ایک تھیم پارک میں معروف بحری جہاز ٹائٹینک کی ہو بہو نقل سیاحوں کی توجہ کا اہم مرکز ہونے جا رہی ہے۔

269 میٹر لمبے بحری جہاز کی نقل تیار کرنے کا کام منگل کو چین کے شیچوان صوبے کے ایک دیہی علاقے میں شروع کر دیا گيا ہے۔ یہ جہاز مستقل طور پر وہاں پانی کے اندر رہے گا۔

خیال رہے کہ اصل بحری جہاز کو ہارلینڈ اور وولف کمپنی نے آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں تیار کیا تھا جو اپنے پہلے سفر پر ہی بحر اوقیانوس میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور اس پر سوار 1500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ جہاز اپنے پہلے سفر پر ساؤتھیمپٹن سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا کہ وہ برفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہو گیا۔

،تصویر کا کیپشن

ٹائٹینک کی نقل والا جہاز مستقل طور پر شیوشوان صوبے کے ایک آبی زخیرے میں رہے گا

اس جہاز کی کہانی میں چین کے بہت سے لوگوں کی زبردست دلچسپی ہے۔

اس دلچسپی میں سنہ 1997 میں اداکارہ کیٹ ونسلیٹ اور اداکار لیونار.و ڈی کیپریو کی فلم کے بعد سے خصوصی اضافہ ہوا اور یہ فلم وہاں بہت مقبول ہوئی تھی۔

فلم کے ہدایت کار جیمز کیمرون نے اس جہاز کی 90 فیصد نقل تیار کی تھی لیکن آج تک اس کی مکمل نقل تیار نہیں کی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے ارب پتی کلائیو پامر نے سنہ 2012 میں اس کی ہو بہو نقل تیار کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

،تصویر کا کیپشن

کمپنی نے پہلے پہل سنہ 2014 میں اس ایک ارب یوان کے منصوبے کا اعلان کیا تھا

چینی نقل میں اصل جہاز کے اندر پرتعیش آرائش و آسائش اور جاہ جلال کے مظاہرے نظر آئيں گے جن میں بال روم، تھیئٹر، سوئمنگ پول، اور فرسٹ کلاس کیبن شامل ہیں۔ اس میں وائی فائی اضافی سہولت ہو گی اور یہ چین کے ساحل سے سینکڑول میل دور ایک تھیم پارک میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہو گا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کمپنی نے پہلے پہل سنہ 2014 میں اس ایک ارب یوان کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

یہ جہاز اپنے پہلے ہی سفر پر ساؤتھمپٹن سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا کہ برفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہو گیا

خیال رہے کہ چین میں اندرون ملک سیاحت فروغ پر ہے کیونکہ حکومت ترقی کے پرانے ماڈل سرمایہ کاری اور صنعت کے بجائے صارفین کی بنیاد پر ترقی پر زور صرف کر رہی ہے۔