فاروق عبداللہ کا لہجہ تبدیل حریت کی حمایت پر آمادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں پانچ ماہ سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک کے بعد ہند نواز حلقے اپنے لہجوں میں تبدیلی لائے ہیں۔ حزب مخالف کے رہنما فاروق عبداللہ نے پیر کے روز علیحدگی پسندوں سے کہا کہ ان کی جماعت تب تک ان کے ساتھ ہے جب تک وہ صحیح راستے کی طرف قوم کی رہنمائی کریں گے۔

انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

اپنے والد اور کشمیر کے پہلے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی برسی پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا علیحدگی پسندوں کو نیشنل کانفرنس کو اپنا دشمن نہیں سمجھنا چاہیے۔

گذشتہ کئی دنوں سے فاروق عبداللہ علیحدگی پسندانہ لہجے میں بات کرنے لگے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دنوں بھی انڈیا سے کہا کہ وہ پاکستان کو طاقت سے ڈرا نہیں سکتا جس کے بعد اترپردیش کی ایک عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ انھوں نے اپنی تقریر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کی اور کہا کہ اگر حریت کانفرنس حق کی بات کرے گی تو ان کی جماعت نیشنل کانفرنس ان کا ساتھ دے گی۔

اس سے قبل پارٹی کارکنوں سے کشمیری میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں زندہ ہے۔ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ 1948 سے چلا آرہا ہے۔ لوگ سڑکوں پر ہیں۔ وہ اپنا حق مانگتے ہیں۔ یاد رکھنا، یہ آگ نہیں بجھے گی۔ یہ آگ تب ہی بجھے گی جب ہندوستان اور پاکستان اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔'

عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل نکل آئے۔ 'مجھے امید ہے کہ نریندرمودی عنقریب پاکستان کے ساتھ بات کریں گے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔'

واضح رہے 27 سالہ شورش کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ہند مخالف احتجاجی تحریک پانچ ماہ سے مسلسل جاری ہے۔ یہ تحریک آٹھ جولائی کو اُس وقت شروع ہوئی جب فورسز نے رہنما برہان وانی کو ہلاک کیا۔ پولیس کی پابندیوں، زیادتیوں اور جبر کے باوجود دو لاکھ لوگوں نے برہان وانی کے جنازے میں شرکت کی۔

لیکن ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں ہند مخالف تحریک شروع ہوگئی جسے دبانے کی سرکاری کارروائیوں میں اب تک تقریباً 100 افراد مارے گئے جبکہ پندرہ ہزار زخمی ہیں۔ بڑے پیمانہ پر ہوئی گرفتاریوں کے خلاف علیحدگی پسندوں اور ہندنواز حلقوں نے حکومت کی تنقید کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں