انڈین ریاست تمل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للیتا انتقال کر گئیں

اماں تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 68 سالہ جے للیتا کئی ماہ سے صحت کے مسائل سے دوچار تھیں

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للیتا چنئی کے اپولو ہسپتال میں انتقال کر گئی ہیں۔

جے للیتا کو اتوار کی شب دل کا دورہ پڑا تھا اور پیر کی شب اپولو ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیراعلیٰ جے للیتا کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

جے للیتا کے انتقال کے بعد ان کے وفادار کہے جانے والے سینيئر رہنما او پنیر سیلوم نے منگل کی صبح تیاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا ہے۔

٭ جے للیتا کا آخری کردار

٭ جے للیتا کی سیاسی زندگی

اس سے قبل ہسپتال نے وزیراعلیٰ جے للیتا کی صحت کے بارے میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی تھی اور انھیں مصنوعی طریقے سے سانس دلایا جا رہا تھا۔

چنئی کے اپولو ہسپتال کے باہر جے للیتا کے ہزاروں کی تعداد میں مداح جمع ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے ہسپتال کے باہر جمع مداحوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سکیورٹی کا سخت انتظام کر رکھا ہے۔

وزیر اعلیٰ جے للیتا کے انتقال بعد ریاست میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جے للیتا کے سب سے قریبی سمجھے جانے والے رہنما اے پنيرسیلوم تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلی بنے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعلیٰ جے للیتا کے انتقال بعد ریاست میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے

چنئی میں اے آئی ڈی ایم کے کے ہیڈ کوارٹر میں پیر کو رات گئے پارٹی کے ارکان اسمبلی کے اجلاس میں انھیں پارٹی اراکین کا لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔

اپولو ہسپتال سے جے للتا کے جسدخاکی کو پوذ گارڈنز میں ان سرکاری رہائش گاہ پر لے جایا گیا ہے جہاں راجاجي ہال میں منگل صبح سے شام چھ بجے تک رکھا جائے گا۔

پوذ گارڈنز کی علاقے میں بھی سیکورٹی کے بھاری انتظامات کئے گئے ہیں۔

تمل ناڈو میں جے للیتا کے انتقال پر چھ دسمبر سے سات دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے اور سرکاری عمارتوں پر پرچم سر نگوں رہیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ شب بھارتی ذرائع ابلاغ میں جے للیتا کی موت کی غلط خبروں کے سبب ہسپتال کے باہر جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔

68 سالہ جے للیتا کئی ماہ سے صحت کے مسائل سے دوچار تھیں اور ان کو آخری بار ستمبر میں دیکھا گیا تھا۔

سابق فلم سٹار جے للیتا چار مرتبہ تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ بنیں اور ان کے حامی انھیں 'اماں' کہہ کر پکارتے ہیں۔

ان کی موت سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔

جے للیتا 22 ستمبر سے ہی اپولو ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں اور چند ہی روز قبل انھوں نے بطورِ وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نائب وزیر اعلیٰ کو سونپی تھیں۔

دل کا دورہ پڑنے کے بعد جے للیتا کو اپولو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے شعبے (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا گيا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چنیئی کے اپولو ہسپتال کے باہر جے للیتا کے ہزاروں کی تعداد میں مداح جمع ہیں

ماضی کی فلموں کی ہیروئن جے للیتا ریاست تمل ناڈو میں بہت مقبول ہیں اور وہ اہم علاقائی سیاسی جماعت 'اے آئی اے ڈی ایم کے' کی سربراہ تھیں۔

اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں میں لوگوں کو مختلف تحائف جیسے الیکٹرانک بلینڈر، بکریاں، سونا وغیرہ تقسیم کرتی تھیں۔

جے للیتا پر کئی بار بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور سنہ 2014 میں کرپشن کے مقدمات میں کچھ عرصہ انھوں نے جیل میں بھی گزارا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں