آخری رسومات عقائد کے برخلاف

فیدل کاسترو اور جے للتا تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ دنوں کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو اور انڈیا میں ریاست تمل ناڈو کی وزیر اعلی کا انتقال ہوا

گذشتہ دنوں دو مقبول سیاسی شخصیات کا انتقال ہوا اور دونوں کی آخری رسومات ان کے ممالک میں رائج رسم و رواج کے خلاف ادا کی گئیں۔

نومبر کے آخری ہفتے میں مرنے والے عالمی شہرت کے حامل کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو کو دفن کرنے کے بجائے نذر آتش کیا گیا جبکہ گذشتہ روز پیر اور منگل کی درمیانی شب انتقال کرنے والی انڈین آئرن لیڈی جے للیتا کو نذر آتش کے بجائے دفن کیا گيا۔

٭ فیدل کاسترو کی تدفین کی رسومات مکمل

٭ جے للیتا کا آخری کردار

خیال رہے کہ کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے مشرقی شہر سینتیاگو میں چار دسمبر کو ان کی موت کے نو دن بعد ان کے جسم کی راکھ ایک قبر میں رکھنے کے ساتھ پوری ہوئیں۔ فیدل کاسترو کی راکھ کو 19ویں صدی کے کیوبا کی آزادی کے ہیرو ہوزے مارتی کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

اس موقعے پر کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے اپنے 'ملک کی سلامتی اور بھائی کے سوشلئزم' کے دفاع کا عہد کیا اور اعلان کیا کہ فیدل کاسترو کی خواہش کے مطابق کسی سڑک یا یادگار کا نام ان کے نام پر نہیں رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انقلابی رہنما فیدل کاسترو شخصیت پرستی کے خلاف تھے

انھوں نے کہا ’انقلاب کے رہنما شخصیت پرستی کے کسی بھی قسم کے اظہار کے سخت خلاف تھے۔‘

یعنی وہ اپنا کوئی نام و نشان نہیں چاہتے تھے۔ شاید ان کے نظریے کی ترجمانی غالب کے ایک مصرے ’نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا‘ سے ہوتی ہے۔

اس کے برعکس تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ کو شخصیت پرستی کا آئیکون کہا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست میں کسی دیوی کی طرح ان سے عقیدت رکھی جاتی ہے۔

منگل کی شام کو جب جے للیتا کے جسد خاکی کو قبر میں اتارا جا رہا تھا تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ ہندو رسم اور روایت کے مطابق موت کے بعد انھیں نذر آتش کیوں نہیں کیا گيا؟

مدراس یونیورسٹی میں تمل زبان و ادب کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر وی اراسو کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ جے للیتا کا دراوڑ جدوجہد سے منسلک ہونا ہے اور دراوڑ تحریک کا ہندو مذہب کے کسی برہمنی رسم و رواج میں عدم یقین ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جے للتا کے چاہنے والے انہیں ایک دیوی کی طرح پوجتے تھے اور وہ ایک لمبے عرصے سے تمل ناڈو کی سیاست پر چھائی ہوئی تھیں

جے للیتا ایک مشہور اداکارہ تھیں اور پھر وہ دراوڑ پارٹی کی سربراہ بنیں، جس کی بنیاد برہمن ازم کی مخالفت پر قائم تھی۔

پروفیسر وی اراسو کہتے ہیں کہ عام ہندو روایت کے برخلاف دراوڑ تحریک سے وابستہ لیڈر اپنے نام کے ساتھ ذات پات کو ظاہر کرنے والے نام کا بھی استعمال نہیں کرتے۔

جے للیتا نے اپنے سیاسی گورو اور اپنے زمانے کے معروف تمل اداکار ایم جی آر کی موت کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالی تھی۔ ایم جی آر کو بھی ان کی موت کے بعد دفن کیا گیا تھا اور ان کی قبر کے پاس ہی دراوڑ تحریک کے بڑے رہنما اور ڈی ایم کے پاٹی کے بانی اننادورے کی بھی قبر ہے۔

بہر حال بعض تجزیہ کار ان کے دفنائے جانے کی سیاسی توجیہات پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جے للیتا کی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے، ان کی سیاسی وراثت کو محفوظ کرنا چاہتی ہے، جس طرح سے انھوں نے ایم جی آر کی سیاسی وراثت کو محفوظ کر رکھا ہے۔

جے للیتا کی تدفین کے وقت پنڈت جو تھوڑی بہت رسم ادا کرتے نظر آئے اس میں ان کی قریبی ساتھی ششی کلا بھی شامل تھیں۔ بعض ٹی وی چینلز یہ کہہ رہے ہیں کہ جے للیتا کی آخری سومات ہندو مذہب کے شری ویشنو عقیدے کے تحت تھی۔

لیکن اکیڈمی آف سنسکرت ریسرچ کے پروفیسر ایم اے لكشمی تاتاچر نے سینیئر صحافی عمران قریشی کو بتایا کہ اسے کسی ہندو روایت سے منسلک کرنا درست نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جے للتا کے آخری دیدار کے لیے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خراج عقیدت پیش کیا

ان کے مطابق، اس روایت میں ’جسم پر پہلے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے ساتھ ہی ساتھ منتر پڑھنے کا عمل جاری رہتا ہے اور پھر تلک لگا کر جسم کو آگ کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ روح جنت میں داخل ہو جائے۔‘

خيال رہے کہ ایک عرصے سے جے للیتا کے نام پر ایک مندر کے قیام کی بات کی جا رہی ہے اور انڈین اخبار دا ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایم جی آر کی یوتھ ونگ نے رواں سال کے اوئل میں اماں ایالم نامی مندر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ جے للیتا کو تمل ناڈو میں ’اماں‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اور ان کے نام پر غریبوں کے لیے سستی قیمت پر سرکاری سکیم کے تحت ’اماں کینٹین‘ بھی چلتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں