پاپا پیار تو بہت کرتے ہیں لیکن۔۔۔!

سنگیتا
Image caption سنگیتا کو دلی کے ایک گنجان علاقے میں انھیں عارضی پناہ ملی ہے

پاپا پیار تو بہت کرتے ہیں لیکن۔۔۔!

اپنی پسند سے شادی کرنے کے بعد سنگیتا اپنے ہی گھر والوں سے جان بچاتی پھر رہی ہیں۔

سنگیتا کا تعلق انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ سے ہے جہاں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ وہ بی بی اے کی طالبہ ہیں اور ان کے شوہر روی فائنل ایئر انجینئرنگ کے طالبعلم، دونوں نے اپنے والدین سے چھپ کر شادی کی لیکن نئی زندگی کا آغاز پرانے رواجوں کی پیچیدگیوں میں الجھ گیا ہے۔

دلی کے ایک گنجان علاقے میں انھیں عارضی پناہ تو مل گئی ہے لیکن اس سوال کا جواب نہیں کہ ان کی پسند ان کے گھر والوں کی پسند کیوں نہیں بن سکتی۔

سنگیتا کہتی ہیں کہ ان کے والد ان سےبہت پیار کرتے ہیں لیکن 'نہیں معلوم اب انھیں کیا ہوگیا ہے جو وہ یہ سب کر رہے ہیں۔ پہلے پاپا کہتے تھے کہ تو مجھ سے کچھ بھی مانگ، میں تجھے ہر چیز دوں گا۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ میرے فیصلے کو مان لیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اعتراض کس بات پر ہے۔'

روی کا قد چھ فٹ سے زیادہ ہے اور انھیں ورزش کا شوق ہے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں لیکن کریئر 'فٹنس' کے شعبے میں بنانا چاہتے ہیں۔ زندگی میں آگے جا کر انھیں کیا کرنا ہے اس میں تو بظاہر تھوڑی کنفیوژن ہے لیکن سنگیتا کا ہاتھ پکڑ کر جو قدم انہوں نے اٹھایا ہے اس کے بارے میں بالکل نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے گھر والے نہیں مانیں گے لیکن یہ نہیں کہ بات مرنے مارنے تک پہنچ جائےگی۔ ہم سے غلطی صرف یہ ہوئی کہ ہمیں پہلے اپنی پڑھائی پوری کرنی چاہیے تھی۔۔۔والدین کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ لڑکا لڑکی ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں یا نہیں، باقی کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔'

Image caption سنجے سچدیوا 'لّو کمانڈوز' کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ چلاتے ہیں

ان دونوں کی مدد سنجے سچدیوا کر رہے ہیں جو 'لّو کمانڈوز' کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ چلاتے ہیں۔ سنجے اور ان کے ساتھی محبت کرنے والوں کو قانونی تحفظ دلوانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عدالتوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ ریاستوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔

'کئی ریاستوں میں پولیس اور انتظامیہ کے رویوں میں تبدیلی آئی ہے، کچھ محبت کرنے والوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں لیکن اصل مسئلہ قوانین کا اطلاق ہے۔ نئے قانون کی ضرورت تو ہے لیکن موجودہ قوانین بھی کافی سخت ہیں، ان پر عمل درآمد میں کمی رہ جاتی ہے۔'

انڈیا میں غیرت کے نام پر قتل کے معاملات سے نمٹنے کے لیے لمبے عرصے سے ایک نیا سخت قانون وضع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن سیاسی تقاضے آڑے آ جاتے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں ان 'کھاپ پنچایتوں' (طاقتور علاقائی پنچایتیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی) کو ناراض کرنے سے ڈرتی ہیں جو انھیں انتخابات میں سبق سکھا سکتی ہیں۔

غیرت کے نام پر جرائم اکثر ایسے دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں جہاں عورتوں کو آج بھی برابری کا درجہ حاصل نہیں لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔

جگمتی سانگوان طویل عرصے سے دیہی علاقوں میں بیداری پیدا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'بہتری ضرور آئی ہے لیکن ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے کھاپ پنچایتیں خود کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہی ہیں اور نیا قانون وضع کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔'

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ قانون وضع کرنے کی راہ میں پیش رفت جاری ہے اور امن و قانون برقرار رکھنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کھاپ پنچایتوں کے خلاف کئی مرتبہ سخت احکامات جاری کر چکی ہے لیکن ان پنچایتوں کا دعوی ہے کہ وہ صرف اپنے پرانے سماجی اقدار کا تحفظ کر رہی ہیں، غیرت کے نام پر جرائم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

نائب وزیر داخلہ ہنس راج اہیر کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں گذشتہ برس نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے 251 کیس ریکارڈ کیے گئے جو 2014 کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ تھے۔

انڈیا میں غیرت کے نام پر جرائم کے لیے ہریانہ، پنجاب اور اترپردیش جیسی ریاستیں زیادہ بدنام ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق سب سے زیادہ 131 مقدمامت اتر پردیش میں درج کیے گئے جبکہ 2014 میں وہاں صرف ایک مقدمہ قائم ہوا تھا۔

Image caption جگمتی سانگوان کے مطابق غیرت کے نام پر کیے جانے والے بہت سے جرائم پولیس کی نظروں میں آتے ہی نہیں

جگمتی سانگوان کے مطابق غیرت کے نام پر کیے جانے والے بہت سے جرائم پولیس کی نظروں میں آتے ہی نہیں کیونکہ انہیں مقامی سطح پر ہی دبا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہریانہ کے صرف ایک ضلع میں تین مہینے کی مدت کے دوران اخبارات میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے 43 جرائم( صرف قتل نہیں) کی خبریں شائع ہوئیں اور ہریانہ ملک کی سب سے چھوٹی ریاستوں میں سے ایک ہے۔

جگمتی سانگوان کہتی ہیں کہ اس سلسلے میں لوگوں کے اندر بیداری بڑھی ہے اور حکومت کے اوپر بھی عدلیہ کا دباؤ ہے کہ محبت کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرے لیکن حالات اس رفتار سےنہیں بدل رہے جیسے بدلنے چاہییں۔'

حالات جب بدلیں گے تو ان میں سنگیتا جیسے نوجوانوں کا بھی بڑا کردار ہوگا۔ اپنے والدین کے لیےان کا پیغام بہت سادہ ہے۔

'میں تو کہوں گی کہ اب ہمارہ معاشرہ پڑھا لکھا ہے، تعلیم کے بعد بھی اگر ہم مذہب اور ذات کی بنیاد پر کسی کو جج کریں، اس کی ذات دیکھیں لیکن اس کی تکلیف ہمیں نظر نہ آئے تو یہ تعلیم کس کام کی۔۔۔انسان اپنے مذہب سے نہیں اپنے عمل سے پہچانا جاتا ہے۔'

نئی نسل پرانے ریتی رواجوں کو توڑ کر جینا چاہتی ہے لیکن صدیوں پرانےان بندھنوں کو توڑنا آسان نہیں۔

( لڑکے اور لڑکی کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی غرض سے ان کے نام تبدیل کیے گئے ہیں)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں