کشمیر: طویل جھڑپ ختم، مکان زمین بوس، دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جس گاؤں میں جھڑپ ہوئی اس کے قریب جانے نہیں دیا جا رہا تھا

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ بیج بہاڑہ میں گزشتہ 42 گھنٹوں سے جاری مسلح تصادم ختم ہو گیا ہے اور حکام کے مطابق انھیں ایک مکان کے ملبے تلے سے دو لاشیں ملی ہیں۔

پولیس کا دعوی ہے کہ ایک مکان میں دو یا تین مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد آرونی قصبہ کی حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا گیا جس کے بعد یہ تصادم شروع ہوا۔

لیکن تصادم کے اختتام پر سی آر پی ایف کے ڈپٹی انسپکڑ جنرل محسن شہیدی نے بتایا: "کافی ملبہ ہے وہاں۔ ابھی ایک دھماکہ بھی ہوا۔ ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں وہاں کتنی لاشیں ہیں۔‘ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جائے واردات سے دو لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جس مکان کا محاصرہ کیا گیا تھا، اس پر فورسز نے لگاتار دھماکہ خیز مواد فائر کیا جس کے باعث مکان میں آگ لگ گئی اور وہ زمین بوس ہوگیا۔

بدھ کے روز جب یہ تصادم جاری تھا تو لوگوں نے فوج اور پولیس کے خلاف مظاہرے کئے جس کے بعد سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شہری ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ تاہم پولیس کے آئی جی پی ایس جے ایم گیلانی کا دعوی ہے کہ شہری کی موت کراس فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آر ونی میں لشکر طیبہ کے چیف ابو دُجانہ ساتھیوں سمیت موجود ہیں ، جس کے بعد پولیس نے فوج اور نیم فوجی اداروں کی مدد سے حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ ابو دُجانہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جی پی گیلانی نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تصادم کے دوران پورے علاقے کو سکیورٹی فورسز نے اپنے گھیرے میں لے لیا

جمعہ کے روز بھی جنوبی کشمیر اور دوسرے قصبوں میں بھی آرونی میں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔

واضح رہے کہ جنوبی کشمیر کے ہی کوکرناگ قصبہ میں 8 جولائی کی شام مسلح رہنما برہان وانی کو پولیس نے ایک مختصر تصادم کے دوران دو ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا تھا، جس کے بعد پوری وادی میں ہند مخالف احتجاجی تحریک شروع ہوگئی تھی۔ اس تحریک کو دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ مسلسل پانچ ماہ سے کشمیر میں عام زندگی ہڑتالوں، گرفتاریوں اور سرکاری پابندیوں کے باعث معطل ہے۔

تازہ تصادم کے بعد حکومت نے پھر ایک بار جنوبی کشمیر مِیں ٹیلیفون رابطوں اور انٹرنیٹ کی سہولات کو محدود کردیا ہے۔

احتجاجی تحریک کے دوران 18ستمبر کو اُڑی قصبہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سارا فوکس ایل او سی پر پیدا شدہ کشیدگی اور ہندپاک تعلقات میں تناو پر چلا گیا۔ جمعہ کے پیش نظر حکام نے جنوبی کشمیر اور سرینگرکے بعض علاقوں میں پھر ایک بار ناکہ بندی اور سیکورٹی پابندیوں کا انتظام کیا ہے۔

اسی بارے میں