'کبوتر با کبوتر باز با باز'

ہم جنس پرستوں کی پریڈ دہلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption محمد عارف کا کہنا ہے کہ وہ دہلی کی طرح لکھنؤ میں بھی ہم جنس پرستوں کی ایک پریڈ نکالنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے سماج کی نبض ٹٹول رہے ہیں

دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح انڈیا میں ہم جنس پرستی ابھی تک قابل تعزیر جرم ہے لیکن ایک عرصے سے اسے جرم کے زمرے سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

سنہ 2009 میں دہلی ہائی کورٹ نے برطانوی عہد کے اس قانون کو ہندوستانی آئین میں دیے جانے والے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت دہلی ہائي کورٹ کے فیصلے کو بدلتے ہوئے اسے جرم کی فہرست میں برقرار رکھا تھا۔

٭ اک معمہ، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

ہم جنس پرستی کو جرم کی فہرست سے نکالنے کے لیے سنہ 2015 میں کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرور کی جانب سے پارلیمان میں ایک بل پیش کیا گیا جسے 24 کے مقابلے میں 71 ووٹوں سے شکست کا سامنا رہا۔

انڈیا میں اس پر بحث ابھی جاری ہے لیکن رواں سال کے اوائل میں سپریم کورٹ نے اس پر از سر نو غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مولوی، پنڈت، راہب پادری سب سر میں سر ملاتے نظر آتے ہیں۔

لکھنؤ کی معروف یونیورسٹی ندوۃ العلما کے نوجوان عالم ہوں یا ایک جدید یونیورسٹی کے طالب علم انھیں ہم جنس پرستی قبول نہیں اور وہ اسے غیر فطری عمل، سماج کے لیے مہلک اور چند بھٹکے ہوئے افراد کا وطیرہ بتاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption ارپن کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستی سے سماجی توازن بگر جائے گا اور یہ سماج کے حق میں نہیں

ندوۃ العلما کے عالم محمد فرمان ندوی کہتے ہیں: 'یہ غیر فطری عمل ہے اور اسے سماج کے دانشور طبقے کو روکنا چاہیے ورنہ اس کے سماج پر منفی اور مہلک اثرات پڑیں گے۔'

غیر فطری سے ان کی کیا مراد ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'انسان صدیوں سے پاؤں سے چلتا آ رہا ہے، کسی کو آپ نے سر کے بل چلتے نہیں دیکھا۔ یا پھر انسان منھ سے کھا رہا ہے ناک سے کھانا رائج نہیں اسی طرح اللہ نے افزائش نسل کے لیے خاتون اور مرد بنائے ہیں اور یہ سب فطری ہیں۔ اس کے خلاف جانا غیر فطری عمل ہے۔'

لیکن ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والے محمد عارف کا کہنا ہے کہ 'ہم جنس پرستی بھی فطری ہے، اس پر ان کا زور نہیں وہ اسی طرح پیدا ہوئے ہیں۔'

ان کے مطابق 'لکھنؤ میں یا پھر کسی دوسری جگہ لوگوں میں کم از کم اتنی بیداری پیدا ہوئی ہے کہ وہ سر عام ان کی مخالفت میں سڑکوں پر نہیں اترتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption محمد عارف کا خیال ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ہم جنسی میلان بھی فطری ہے اور اس پر ان کا زور نہیں

کیا مسلمانوں میں ہی ہم جنس پرستی کا رجحان زیادہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: 'مسلمانوں میں خواجہ سراؤں یا ہیجڑوں کو قبول کیا جاتا ہے جبکہ ہندوستان کے دوسرے مذاہب میں ایسا نہیں ہے۔ اس لیے دوسرے مذاہب کے ہیجڑے یا ہم جنس پرست اپنے تحفظ کے تحت اپنا نام بدل کر خود کو مسلم ظاہر کرتے ہیں۔'

جبکہ انھی کی طرح ایک دوسرے ہم جنس پرست نوجوان نے بتایا کہ انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں کہا کہ 'اگر کسی کے گھر اس فطرت یا میلان کا کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو اسے طرح طرح سے ستایا جاتا ہے۔'

ان کا دعویٰ ہے کہ 'ایسے افراد کو زدو کوب کیا جاتا ہے یہاں تک کہ انھیں عاق یعنی وراثت کے حق سے بے دخل بھی کر دیا جاتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption ندوۃ العلما کے نوجوان عالم دین کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی غیر فطری ہے اور اگر اس پر روک نہیں لگائی گئي تو دنیا میں تباہی آئے گي

انھوں نے راہ چلتے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہم جنس پرست میلان رکھتا ہے۔ ہم نے جب دریافت کیا کہ انھوں نے کیسے پہچانا تو ان کا کہنا تھا 'اس کی چال بتاتی ہے کہ وہ زنانہ صفت ہے اور وہ کسی مرد ساتھی کے ساتھ زیادہ خوش رہ سکتا ہے۔'

جبکہ لکھنؤ میں قائم ایک یونیورسٹی کے طالب علم ارپن شکلا کا کہنا ہے کہ 'یہ غیر فطری عمل ہے اور وہ کسی طرح اس کے حق میں نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: 'جہاں تک لکھنؤ کا سوال ہے تو اکثر و بیشتر افراد اس کے خلاف ہیں معدودے چند لوگ اس کے حق میں ہوسکتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔'

اسی یونیورسٹی کی طالبہ دویہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ 'جمہوریت میں سب کو اپنی طرح سے جینے کا حق حاصل ہے۔'

Image caption نوجوان طالبہ دویہ کا خیال ہے کہ جمہوریت میں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں اس لیے انھیں ہم جنس پرستی کے میلان رکھنے والوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا

ان کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستی میں صرف لڑکوں یا صرف لڑکیوں کے تعلیمی ادارے سے بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی لڑکے کی لڑکے میں کسی لڑکی کی لڑکی میں دلچسپی پیدا ہوسکتی ہے۔ چنانچہ وہ مخلوط تعلیمی نظام کے حق ہیں۔

جبکہ ان کی ساتھی سائمہ کا کہنا ہے کہ 'نوجوان اس کے بارے میں منفی نظریات نہیں رکھتے بلکہ معمر افراد اس کے خلاف ہیں۔'

ان کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ فکر بدل رہی ہے اور لوگ سرعام اس کی مخالف میں بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ نوجوان نسل کو اس موضوع پر بات کرنے سے کوئی پرہیز نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption سائمہ کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستی کے معاملے پر معمر حضرات کے مقابلے نوجوان زیادہ روشن خیال ہیں

عارف آنے والے دنوں میں لکھنؤ میں ہم جنس پرستوں کی ایک پریڈ نکالنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ سماج کی نبض جاننے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ کیا وہ ایسی کوئی پریڈ لکھنؤ میں نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

٭ انڈیا کے نوجوان مسلمانوں کے خدشات پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز 'نائی کی دکان سے چائے کی دکان` تک ہر پیر کو پیش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں