بنگال کی 'جل پری' ہلسا

ہلسا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلسا مچھلی کانٹے دار تو ہوتی ہے لیکن مزے دار بھی بہت ہوتی ہے

مہینوں سمندر کے گہرے پانی میں چھپی ہلسا مچھلی سردیوں کے ختم ہوتے ہی اچھلتی کودتی خلیج بنگال کی لہروں پرسوار ہو کر گنگا اور پدما دریا میں آ گرتی ہے جہاں بنگال کے مچھیرے جال لیے اس کے منتظر رہتے ہیں۔

نہ صرف گنگا بلکہ اس کے آس پاس کے کئی دریاؤں میں تیرتی ہلسا مچھیروں کا نشانہ بن کر بازاروں میں پہنچتی ہیں۔

ہلسا اور بنگال کا ساتھ بہت پرانا ہے۔ بنگال کے رسم و رواج میں ہلسا کا اہم کردار ہے۔ شادی کی رسومات کی ابتدا سے قبل سجی سجائی ہلسا دولھے کے ہاتھ سے لگا کر دلھن کے گھر بھیجی جاتی ہے۔ یہ نئی بیاہتا کے لیے زندگی شروع کرنا کا پیغام ہے۔

ہلسا کی دعوت صلح کی علامت ہے اور اسے دوستی کو مضبوط بنانے اور دلوں کو جوڑنے کا وسیلہ شمار کیا جاتا ہے۔ اسے ساس سسر کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی کہا جاتا ہے تو اہلیہ کی خفگی دور کرنے کا وسیلہ اور مسرت کا سامان۔ ہلسا کے بغیر بنگال کی سماجی زندگی پھیکی اور سونی کہی جا سکتی ہے۔

یوں تو ہندوستان کا ساحلی علاقہ ساڑھے سات ہزار کلومیٹر سے زیادہ وسیع ہے اور اس پر تقریباً چار ہزار مچھیروں کے گاؤں آباد ہیں لیکن ہندوستان کے جنوبی اور مشرقی حصے مین مچھلی بکثرت پائي جاتی ہے۔ مشرقی اور مغربی بنگال کے دریا میں انواع اقسام کی مچھلیاں تیرتی نظر آتی ہیں لیکن جو اہمیت ہلسا کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں۔

ہلسا کا موسم شروع ہوتے ہی بنگال کے مچھلی بازار میں گاہک ٹوٹا پڑتا ہے اور ہر طرح سے مطمئن ہو کر ہی ہلسا خریدتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلسا کو پکانے کے طریقے بھی بہتیرے ہیں

ہلسا نہ صرف چاندی کی طرح چمکتی ہوئی مچھلی ہے بلکہ کھانے میں لذیذ بھی ہے۔ بنگالی کی خواتین بڑے جتن سے ہلسا پکاتی ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ بازار میں ہلسا کا خریدار مرد ہوتا ہے اور دکاندار بھی مرد، اس میں خواتین کا گزر نہیں لیکن پکانے میں ان کے تجربے اور ہنرمندی دونوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بنگالی اس مچھلی کا کوئی بھی حصہ ضائع کرنے سے بچتے ہیں۔ مچھلی کا سر تا دم ہر حصہ بڑی لگن اور چاؤ سے پکایا اور کھایا جاتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں پکی یہ مچھلی بنگالی دسترخوان کی جان ہے۔ کہیں یہ کباب کی شکل میں نظر آتی ہے تو کہیں کیلے کے پتے میں چھپی۔ کہیں مصالحوں میں سنی تو کہیں کڑھائی میں تلی۔ الغرض ہلسا پکانے کے ہزار ہا طریقے ہیں اور ہر انداز میں اس مچھلی کا مزہ الگ ہے۔

مچھلی بنگالیوں کی روزانہ کی غذا کا حصہ ہے۔ مچھلی کا سالن، جسے جھول کہا جاتا ہے، اور چاول ان کا من بھاتا کھاجا ہے۔ بنگالی مچھلی کو دماغ کی تیزی کا سبب بتاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس اس کی دم اور کانٹے بھی ضائع نہیں کرتے بلکہ انھیں کدو اور دوسری ترکاریوں کے ساتھ پکاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلسا بنگالی ثقافت کا حصہ تصور کی جاتی ہے

قدیم بنگالی گھروں میں مچھلی اور سبزی بنانے کے چولھے علیحدہ ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ مشرقی اور مغربی بنگال اپنی اپنی ہلسا کی تعریف اور ستائش میں رطب السان ہیں۔ گنگا کی ہلسا بہتر یا پدما کی۔ دونوں کا ہی سراپا چاندی کی طرح چمکتا ہے۔

انگریزی دور حکومت نے ہلسا کو ایک نیا روپ دیا۔ بنگالی دوستوں نے بتایا کہ بنگالی سمندر کی بجائے دریائی مچھلیوں کے زیادہ شوقین ہوتے ہیں، کیونکہ دریا کی مچھلیوں میں سمندر کی مچھلیوں کے مقابلے میں بو کم ہوتی ہے۔ دریائی مچھلیوں میں کانٹے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے غیر بنگالی اس سے دور رہتے ہیں لیکن بنگالی خواتین ہلسا کو کانٹوں سمیت پکانے کا ہنر اچھی طرح جانتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیلے کے پتے کے ساتھ اس مچھلی کا پکایا جانا بھی ایک انداز ہے

بنگالیوں کے مذہبی تہواروں میں بھی ہلسا کا بڑا دخل ہے۔ سرسوتی پوجا، کالی پوجا اور کہیں کہیں لکشمی پوجا میں اس کے بنائے پکوان نذر میں چڑھائے جاتے ہیں۔

مغربی اور مشرقی بنگالی نئے سال کا آغاز گیلے چاول اور تلی ہلسا سے کیا کرتے تھے لیکن اب یہ رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں