راہول گاندھی کا اون گول یا سپر گول؟

راہول گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption پارلیمنٹ کا اجلاس جمعے کو ختم ہو جائے گا اور یہ تقریباً طے ہے کہ جمعے کو بھی لوک سبھا میں کوئی کام نہیں ہوگا۔

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کے مختصر سیاسی سفر میں یہ لمحہ فکریہ ہے، گیند ان کے پاس ہے، بس دیکھنا یہ ہے کہ وہ ’اون گول‘ کرتے ہیں یا ہوشربا سپر گول۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کی بدعنوانی کا ثبوت ہے لیکن انھیں پارلیمان میں بولنے نہیں دیا جارہا۔ حکمراں جماعت بی جے پی کا جواب ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں نہیں بول سکتے تو باہر بولیں، کس نے روکا ہے؟

تو سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ان کے پاس کوئی ٹھوس معلومات ہیں تو پارلیمان میں ہی بولنا کیوں ضروری ہے؟ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جمعے کو ختم ہو جائے گا اور اب یہ بات تقریباً طے ہے کہ جمعے کو بھی لوک سبھا میں کوئی کام نہیں ہوگا۔ پھر وہ کیا کریں گے؟

راہول گاندھی پارلیمان میں ہی کیوں بولنا چاہتے ہیں، اس کی صرف ایک وجہ ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ ایوان میں کہی جانے والی کسی بھی بات کے سلسلے میں کسی رکن کے خلاف کسی عدالت میں کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راہول کا دعوی ہے کہ ان کے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کی بدعنوانی کا ثبوت ہے لیکن انھیں بولنے نہیں دیا جارہا

اس کھیل میں انھوں نے 'سٹیکس' بہت اونچے کر دیے ہیں، اگر تیر نشانے پر بیٹھا تو وزیراعظم کے پیروں تلے زمین کھسک سکتی ہے، اگر نہیں تو راہول گاندھی کا وہی حشر ہوگا جو کھچا کھچ بھرے ہوئے سٹیڈیم میں سیلف گول کرنے کے بعد کسی سوپر سٹار کا ہوتا ہے۔

بہرحال، جو بھی ہو انڈیا بدل رہا اور کچھ اس انداز میں کہ کسی نہ سوچا نہ ہوگا۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بڑے نوٹ بند ہونے سے ملک میں اتحاد بڑھا ہے کیونکہ شاید تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سوا ارب انسان مختلف زبانوں میں ہی سہی لیکن ایک ہی موضوع پر بات کر رہے ہیں!

کل ٹرین میں میں نے کچھ نوجوانوں کو آپس میں بات کرتے ہوئے سنا کہ اب پیسے نکالنے کے لیے لائن میں کھڑے ہونے کی ایسی عادت ہوگئی ہے کہ لائن میں کھڑے نہ ہوں تو خالی پن کا احساس ہونے لگتا ہے، بینک کے باہر بھیڑ نہ ہو تو پھر کوئی اندر نہیں جاتا چاہے کیشیئر پیسے لیکر انتظار میں بیٹھا ہو اور اگر پورا ملک کالے دھن کے خلاف اس جنگ میں شامل ہے تو کالا دھندا کون کررہا تھا؟

لوگ نوٹ بند ہونے سے پریشان بھی ہیں لیکن وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں کہ پیسے ملیں نہ ملیں کم سے کم موسم تو اچھا ہے، لائن میں کھڑے کھڑے مونگ پھلی کھاتے رہیں، ٹائم تو کٹ جاتا ہے، اگر یہ ہی فیصلہ مئی جون میں کیا جاتا تو کیا ہوتا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی کھل کر مظاہرہ کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر قہقہے گونج رہے ہیں۔ اگر نوٹ بند کرنے کے فیصلے پر فلم بنائی جائے تو اس کا ٹائٹل کیا ہوگا؟

کرنسی نہ ملے گی دوبارہ، پنک از دی نیو بلیک! ( کالے دھن کا نیا رنگ گلابی ہے، نیا دو ہزار کا نوٹ اسی رنگ کا ہے)، کیش میں اف یو کین ( اصل انگریزی فلم کانام تھا کیچ میں اف یو کین)!

شاہ رخ خان کی نئی فلم رئیس کے بارے میں کسی نے لکھا ہے کہ کہانی اس بارے میں ہے کہ ہیرو نے اے ٹی ایم سے سو سو کے نوٹ کیسے نکالے۔

لیکن سوشل میڈیا کسی کو نہیں بخشتا۔ ایک مہینہ پہلے راہول گاندھی چار ہزار روپے بدلنے بینک پہنچے تھے، اب واٹس ایپ پر گردش کرنے والے ایک پیغام میں ان کی مثال دی جا رہی ہے کہ انھوں نے چار ہزار میں پورا مہینا گزار دیا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں