ڈھاکہ میں لڑکے کے جسم میں ہوا بھر دینے سے ہلاکت

بنگلہ دیش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش میں بچوں سے مزدوری لینے کا عام رجحان ہے

بنگلہ دیش میں ایک 13 سالہ لڑکے کی ہسپتال میں موت ہوگئی جس کے ساتھ بظاہر ایک فیکٹری میں ہولناک جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

یہ واقعہ دارالحکومت کے نارائن گنج کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکے کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے ہوا بھرنے والی مشین کے ذریعے اس کے مقعد میں ہوا بھر دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے محرکات واضح نہیں ہیں تاہم اس نوجوان لڑکے کے ساتھ کام کرنے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور لڑکے کا خاندان قتل کا مقدمہ درج کروانا چاہتا ہے۔

تقریبا ایک سال کے دوران اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دن کے اختتام کے وقت پیش آیا جب دونوں مزدور ہوا کے پریشر سے اپنے جسموں میں چپکی روئی کو اتار رہے تھے۔

جولائی میں نارائن گنج میں کی ہی ایک فیکٹری میں دس سالہ ساگر برمن کی اسی طرح کے واقعے میں ہلاکت ہوئی تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تین نوجوان لڑکوں نے اس حملے میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا اور کہنا تھا کہ وہ ’صرف مذاق کر رہے تھے اور اسے مارنا نہیں چاہتے تھے۔‘

آٹھ ماہ قبل رقیب حوالدار کی موت کے واقعے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب اس 13 سالہ لڑکے کی جسم میں ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے بطور مکینک نوکری چھوڑنے پر اس کے جسم میں ہوا بھر دی تھی۔

اس واقعے کے ساتھ مظاہرے کیے گئے تھے اور بالآخر دو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی/

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں بچوں سے مزدوری لینے کا عام رجحان ہے اور بہت سارے بچے گارمینٹس فیکٹریوں میں نامناسب حالات میں کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں