ادرک کے 100 گن

کیک، بسکٹ اور پیسٹری تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ادرک کا بہت قسم کے کیک بسکٹ اور پیسٹریوں میں بھی استعمال ہوتا ہے

ہم چھوٹی موٹی بیماریوں کے لیے نزدیک کے ہسپتال کا رخ کرتے ہیں یا پھر کسی دوا کی دکان سے دوا خرید لاتے ہیں لیکن بھول کر بھی یاد نہیں کرتے کہ قدرت کے خزانے میں کسی دوا کی کمی نہیں اور ہماری روز مرہ کی زندگی میں ان کا بڑا اہم حصہ ہے۔

جب حکیموں اور ویدو کا چلن عام تھا ہمارے باورچی خانے میں موجود مصالحے اور سبزیاں ان کے علاج کا حصہ ہوا کرتے تھے اور یہ طبی نسخے در حقیقت بڑے مفید اور مؤثر ہوتے تھے یعنی 'ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا‘۔

بات کرتے ہیں ادرک کی جو ہر امیر غریب کے باورچی خانے میں ہوتا تھا اور روزمرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتا تھا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ادرک کی چھوٹی سی جڑ ہماری صحت کا ضامن اور کئی بیماریوں کا علاج ہے؟

ادرک ہاضم ہے، دل کے عضلات کو قوی بناتا ہے، جوڑوں کے درد کو رفع کرتا ہے۔ سردی، زکام اور کھانسی کا علاج ہے اور ساتھ ہی جسم میں گرمی پہنچاتا ہے۔ ہندوستان کا قدیم آیوروید اور طب یونان بھی ادرک کی بے شمار خوبیوں کے قائل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Lion TV
Image caption ادرک سے بیئر اور دوسری مشروبات بھی تیار ہوتی ہیں

دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں ادرک کی خوبیوں کے گن گائے جاتے ہیں اور بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ عرب تاجروں کے ذریعے ادرک نے دنیا کا سفر کیا۔ جب ادرک نے یونان کی سرزمین پر قدم رکھا اور یونانی اس کی خوبیوں سے آگاہ ہوئے تو اسے دوا میں استعمال کیا گیا اور یوں یونانی طب کا اہم حصہ بن گيا۔

طب یونانی میں پیٹ کی درستگی کو اہم تسلیم کیا جاتا ہے اور ادرک اس کام میں اس کا مددگار ہے۔ عربی فارسی کے علاوہ یورپ کے کلاسیکی ادب میں بھی ادرک کا ذکر ملتا ہے۔ ہنری ہشتم نے اسے طاعون کا علاج بتایا اور ملکہ الیزبیتھ اول نے ادرک، سونف اور دارچینی کے سفوف کو ہاضمے کا دوست قرار دیا تھا۔

ادرک کی بہتیری صفات سے ایک عام آدمی شاید بے خبر ہو لیکن ماہرین اس کی اہمیت کے قائل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ادرک اور دوسرے مصالحے اور سبزیاں بہت سی بیماریوں کا علاج ہیں

ادرک بیشتر گوشت اور مرغ سے بنائے پکوان میں استعال ہوتا ہے اور انھیں زود ہضم بناتا ہے۔ گو مچھلی پکانے میں ادرک کا استعمال کم ہے لیکن اس کی بھینی خوشبو کھانے کو اشتہا انگیز بناتی ہے۔ ترکاریوں میں بھی ادرک کا استعمال ہوتا ہے۔ ادرک سے بنی چٹنیاں، اچار اور حلوے یا مربے ہندوستانی دسترخوان کا حصہ ہیں جبکہ ادرک والی چائے تو بہت عام ہے۔

دنیا کے دوسرے ممالک میں ادرک سے بنی پائی، کیک اور بسکٹ بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ ادرک نہ صرف کھانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس سے بنے مشروب بھی ضیافت کا حصہ ہوتے ہیں کیونکہ دسترخوان پر سجے متنوع کھانے کو ہضم کرنا ہی اس مشروب کا کام ہے۔

'ادرکی نان' یا 'جنجر بریڈ' کی معروف کہانی آپ نے سنی ہوگي۔ بہر حال اگر آج آپ ایک گملے میں ادرک کا ایک پودا لگا لیں تو کسی حد تک ڈاکٹر کا خرچ بچ سکتا ہے اور آپ اے ٹی ایم کی لائن سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں