انڈین تاریخ میں تیمور لنگ کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چنگیز خان پوری دنیا کو ایک ہی سلطنت کے دائرے میں لانا چاہتا تھا تاہم تیمور لنگ کا ارادہ سلطنت سے زیادہ لوگوں پر دھونس جمانا تھا

اداکار سیف علی خان اور کرینہ کپور نے اپنے نوزائیدہ بیٹے کا نام جب سے تیمور خان رکھا ہے تبھی سے انڈیا پر 14ویں صدی کے حملہ آور تیمور خان کے حوالے سے بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔

نام رکھنے کے تعلق سے سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں بہت سے لوگوں نے اسے دونوں کا ذاتی معاملہ کہا تو بہت سے لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ایک ظالم حملہ آور کے نام پر بیٹے کا نام رکھنا درست نہیں ہے۔

تو آخر تیمور لنگ نے بھارت میں ایسا کیا کیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ انھیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے؟

پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر راجیو لوچن نے اپنے اس مضمون میں ان ہی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

مؤرخیں کا کہنا ہے کہ چغتائی منگولوں کے خان، 'تیمور لنگ' کا بس ایک ہی خواب تھا کہ وہ اپنے آبا و اجداد چنگیز خان کی طرح ہی پورے یورپ اور ایشیا پر قبضہ کر لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ازبکستان میں تیمور لنگ کا ایک مجمسمہ

چنگیز خان پوری دنیا کو ایک ہی سلطنت کے دائرے میں لانا چاہتا تھا تاہم تیمور لنگ کا ارادہ سلطنت سے زیادہ لوگوں پر دھونس جمانا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے فوجیوں کو اگر لوٹ کا کچھ مال مل جائے تو اور بھی اچھا۔

چنگیز خان اور تیمور لنگ میں ایک بڑا فرق تھا۔ چنگیز کے اصولوں کے مطابق فوجیوں کو کھلی لوٹ مار کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن تیمور کے لیے لوٹ مار اور قتل عام معمولی باتیں تھیں۔

تیمور لنگ جاتے جاتے ہمارے لیے اپنی ایک سوانح عمری بھی چھوڑ گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آخر ان تین مہینوں میں کیا ہوا تھا جب تیمور نے انڈیا پر حملہ کیا تھا۔

دنیا فتح کرنے کے چکر میں تیمور سنہ 1398 میں اپنی گھڑ سوار فوج کے ساتھ افغانستان پہنچے۔ جب واپس جانے کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے سپہ سالاروں سے مشورہ کیا۔

دہلی پر تیمور کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ازبکستان میں تیمور لنگ کا شاندار مقبرہ ہے جہاں وہ دفن ہیں

ہندوستان ان دنوں کافی امیر خطہ سمجھا جاتا تھا۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کے بارے میں تیمور نے کافی کچھ سن رکھا تھا۔ اگر دہلی پر ایک کامیاب حملہ ہو سکا تو مال غنیمت میں بہت مال ملنے کی امید تھی۔ لیکن سپہ سالاروں نے تیمور کی اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

اس وقت دہلی کے شاہ نصیرالدین محمود تغلق کے پاس ہاتھیوں کی ایک بڑی اور مضبوط فوج تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی ٹک نہیں پاتا تھا۔ ساتھ ہی دہلی کی فوج بھی کافی بڑی تھی۔

تیمور لنگ نے کہا بس تھوڑے ہی دنوں کی تو بات ہے اگر زیادہ مشکل پڑی تو واپس آ جائیں گے۔ اور اس طرح منگولوں کی فوج دریائے سندھ پار کر کے ہندوستان میں داخل ہوگئی۔

راستے میں انھوں نے اسپندی نام کے ایک گاؤں کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ یہاں تیمور نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے سبھی کو لوٹ لیا اور تمام ہندوؤں کے قتل کا حکم دیا۔

پاس میں ہی تغلق پور میں آگ کی پوجا کرنے والے ايذيدیوں کی آبادی تھی، آج کل ہم انہیں پارسی کہتے ہیں۔

تیمور لنگ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایک غلط مذہب کے پیروکار ہیں اس لیے ان کے سارے گھر جلا ڈالے گئے اور جو بھی گرفت میں آیا اسے قتل کر دیا گیا۔

پھر تیمور کی فوج نے پانی پت کا رخ کیا۔ پنجاب کے سمانا قصبے، اسپندي گاؤں اور ہریانہ کے کیتھل میں ہوئے خون خرابے کی خبر سن کر پانی پت کے لوگ پہلے ہی شہر چھوڑ کر دہلی کی طرف فرار ہوگئے۔ پانی پت پہنچ کر تیمور نے شہر کو تہس نہس کرنے کا حکم دے دیا۔

راستے میں لونی کے قلعے سے راجپوتوں نے تیمور کو روکنے کی ناکام کوشش کی۔ اب تک تیمور کے پاس تقریباً ایک لاکھ ہندو قیدی تھے۔ دہلی پر چڑھائي کرنے سے قبل اس نے ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

اس نے یہ بھی حکم صادر کیا کہ اگر کوئی فوجی بے قصور لوگوں کو قتل کرنے سے ہچکچائے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔

اگلے دن ہی دہلی پر حملہ کر کے نصیرالدین محمود تغلق کو آسانی سے شکست دے دی گئی۔ محمود ڈر کر دہلی چھوڑ کر جنگلوں میں جا چھپا۔

دہلی پر فتح کے بعد جشن مناتے ہوئے منگولوں نے کچھ خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو لوگوں نے مخالفت کی۔ اس کے رد عمل میں تیمور نے دہلی کے تمام ہندوؤں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنے کا حکم دیا۔

چار دن میں سارا شہر خون سے لت پت ہوگیا۔

اب تیمور دہلی چھوڑ کر ازبکستان کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میرٹھ کے قلعے دار الیاس کو بھی شکست دے کر تیمور نے میرٹھ میں بھی تقریبا 30 ہزار ہندوؤں کو قتل کروا دیا۔

یہ سب کرنے میں اسے محض تین ماہ لگے اور اس دوران دہلی میں وہ صرف 15 دن ہی رہا۔

متعلقہ عنوانات