بی جے پی اپنے ہی گڑھ میں کمزور پڑ رہی ہے

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نوٹ بندی کے معاملے پر اب ملک میں لوگوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے

انڈیا میں نوٹ بندی کا سوال ایک بڑا سیاسی موضوع بن کر ابھر رہا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے کچھ وزرا ملک کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اس غیر معمولی قدم سے ملک میں ایمانداری اور شفافیت کا ایک انقلاب آنے والا ہے تو دوسری جانب تجزیہ کار اس امر کے تجزیے میں مشغول ہیں کہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر کیا منفی اثر پڑے گا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے کے فیصلے کے لیے حکومت پر بد عنوانی اور بد انتظامی کا الزام لگا رہی ہیں۔ اب وزیر اعظم پر ذاتی طور پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی سیاست خاصی تلخ ہوتی جا رہی ہے۔

انڈیا میں کالے دھن سے پریشان صرف ایماندار شہری تھے: مودی

میرے پاس موجود معلومات سے مودی خوفزدہ ہیں: راہل

نوٹوں پر پابندی کے اثر سے سیاسی رہنما بھی محفوظ نہیں

دہلی کی ان سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے دور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ خاموشی سے اپنی توجہ ساحلی ریاستوں میں پارٹی کی پوزیشن مستحکم کرنے پر مرکوز کر رہے ہیں۔ امت شاہ نے سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ان ریاستوں سے کم از کم سو نشتیں جیتنے کا حدف مقرر کیا ہے۔

مغربی بنگال، اڑیسہ (اوڈیشا)، آندھرا، تلنگانہ، کیرالہ، تمل ناڈو اور کرناٹک میں بی جے پی کی اس انتخابی حکمت عملی کو 'کورومنڈل پلان' کا نام دیا گیا ہے۔ تمل ناڈو میں جیا للیتا کی اچانک موت سے بی جے پی کے لیے جنوب میں نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

اتر پردیش اور پنجاب میں نئے سال کے اوائل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے اتر پردیش میں جیتنا ضروری ہوتا ہے۔ بی جے پی کی امیدیں اس ریاست سے جڑی ہو ئی ہیں۔ وہ یہاں زبردست جیت کی امید کر رہی تھی ۔ لیکن کرنسی نوٹوں کی پالیسی کے بعد اب وہ یہ محسوس کر رہی ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آنے والے انتخابات میں کانگریس کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں

پارٹی کو اکھیلیش یادو کی سماجوادی پارٹی سے زبردست مقابلے کا سامنا ہے۔ یہی نہیں کسی پارٹی کو اکثریت نہ ملنے کی صورت میں کانگریس کا رول برڑھ سکتا ہے۔ بی جے پی اس اہم انتخابی محاذ پر تنہا ہے۔ وہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے پہلے جتنی پر اعتماد تھی اب اتنی پر امید نہیں دکھائی دے رہی ہے۔

اتر پردیش اگر اس کے ہاتھ نہیں آتا تو یہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بہت برا دھچکا ہوگا۔ امت شاہ اسی لیے اپنی توجہ اب ساحلی ریاستوں پر مرکوز کر رہے ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ اتر پردیش ہی نہیں، ہریانہ، پنجاب، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی سیٹیں بڑھ نہیں سکتیں بلکہ گھٹنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

بی جے پی کو جو کمی شمالی انڈیا میں ہو گی وہ اسے ساحلی ریاستوں سے پورا کرنے کی کو شش کرے گی۔ اس نے ان ریاستوں سے سو نشتیں حاصل کرنے کا نشانہ رکھا ہے۔ فی الحال صورتحال بی جے پی کے لیے بہت حد تک موافق ہے لیکن پنجاب اور اتر پردیش کے انتخابی نتائج بی جے پی کے مستقبل کے امکانات کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔

پنجاب میں بی جے پی اور اکالی دل کی مخلوط حکومت رہی ہے۔ بعض جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کانگریس اور عام آدمی پارٹی یعنی آپ پارٹی کے انتخابی امکانات بہتر ہیں۔ اتر پردیش میں بی جے پی نے اپنی پوری طاقت لگا رکھی ہے۔ دونوں ریاستیں بی جے پی کے لیے ہی نہیں کانگریس، آپ پارٹی، سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption امت شاہ بی جے پی کے صدر ہیں اور وہ اب ساحلی علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں

اگر کانگریس پنجاب میں جیتتی ہے اور اتر پردیش میں اس کی کارکردگی پچھلے انتخابات سے بہتر ہوتی ہے اور اگر اسے بہار کے طرز پر نئی حکومت میں شامل ہونے کا بھی موقع مل گیا تو یہ کانگریس کے 'ٹرن اراؤنڈ' یعنی انڈیا کی سیاست میں واپسی کا ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ دونوں جگہ اقتدار سے باہر رہی تو کانگریس بہت جلد انتشار کے دہانے پر کھڑی ہو گی۔

اگر پنجاب میں اروند کیجریوال کی جماعت آپ پارٹی اقتدار میں آ گئی تو یہ انڈیا کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گا۔ بی جے پی ایک مذہب مائل دائیں بازو کی جماعت ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی ایک اقتصادی دائیں بازو کی پارٹی ہے۔ پنجاب کی جیت سے وہ پہلی بار ایک سیریس سیاسی چیلنج بن کر ابھرسکتی ہے۔ وہ نظریاتی طور پر بی جے پی کے لیے ہی نہیں آر ایس ایس کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔ بی جے سے بہتر اس حقیقت کو کوئی نہیں سمجھتا۔ اسی لیے اسے پنجاب میں اپنی جیت سے زیادہ آپ پارٹی کی شکست میں دلچسپی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے قبل بدعنوانی کے خلاف بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ کرنسی نوٹ ختم کرنے کے فیصلے سے وہ جو امید کر رہے تھے بظاہر وہ تدبیر الٹی پڑ گئی ہے۔ پارٹی شمال میں پہلے ہی اپنی مقبولیت کے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب اس میں کمی ہی آ سکتی ہے۔

پارٹی کے صدر امت شاہ ایک بہترین منتظم اور انتخابی حکمت عملی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے شمال کے خطرے کو پہلے ہی محسوس کر لیا ہے اور اب اپنی توجہ ساحلی ریاستوں پر مرکوز کر دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں