کابل میں رکنِ پارلیمان کی گاڑی پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ ریمبٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ہے یا پھر اس میں خودکش بمبار ملوث تھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بم دھماکے میں ایک رکنِ پارلیمان فکوری بہشتی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں فکوری بہشتی سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ ریمبٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ہے یا پھر اس میں خودکش بمبار ملوث تھا۔

مقامی چینل تولو نیوز کے مطابق اس حملے میں فکوری بہشتی کا محافظ ہلاک بھی ہوا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ تولو نیوز کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے اس وقت ہوا جب فکوری بہشتی پارلیمان جا رہے تھے۔

فکوری بہشتی افغانستان کے وسطی صوبے بمیاں کے دارالحکومت بمیاں سے رکنِ پارلیمان ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل میں مسلح حملہ آوروں نے پارلیمنٹ کے ایک اور رکن میر ولی کے گھر پر حملہ کیا جس میں 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق میر ولی اس حملے میں بچ گئے تاہم حملے میں دو بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں کندھار سے رکنِ پارلیمان عبید اللہ برکزئی کے 25 سالہ بیٹے سمیت دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ میر ولی جنوبی صوبے ہلمند سے منتخب رکن ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

2014 میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد سے طالبان ہلمند صوبے کا بہت سا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے آئے ہیں۔ ہلمند صوبہ منشیات کی پیداوار کے حوالے سے اہم ہے۔

اسی بارے میں