سرینگر میں اخبار ’کشمیر ریڈر‘ کی اشاعت دوبارہ شروع

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption اس اخبار پر 'تشدد کو اشتعال' دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ایک معروف اخبار ’دی کشمیر ریڈر' پر حکومت کی جانب سے تین ماہ کی عائد پابندی ختم ہونے کے بعد اس کی اشاعت کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

انگریزی روزنامے 'دی کشمیر ریڈر' کو اکتوبر کے اوائل میں کئی ہفتوں سے جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس اخبار پر ’تشدد کو اشتعال‘ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن پیر کو حکومت کا کہنا تھا کہ ’اب اس کی اشاعت کو مزید روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا تھا کہ یہ پابندی آزادیِ صحافت پر حملہ ہے۔

اخبار کے مدیر ہلال میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک غلطی کو درست کیا گیا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمیں جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دوبارہ جنم لینے جیسا ہے۔ پابندی کا دور سخت تھا لیکن میرا عملہ میرے ساتھ کھڑا تھا۔ میں خوش ہوں کہ حکومت نے ایک غیرمنصفانہ پابندی کو ختم کر دیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption اخبار کے مدیر ہلال میر نے بتایا کہ پابندی کا دور سخت تھا

دی کشمیر ریڈر کی اشاعت چار سال قبل سری نگر سے شروع ہوئی تھی اور یہ خطے کا ایک معروف اخبار ہے۔

اس اخبار پر پابندی علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد عائد کی گئی تھی۔

جولائی سے شروع ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

تاہم گذشتہ چند ہفتوں سے اب حالات نسبتاً بہتر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں