مودی کا قوم سے خطاب اور سوشل میڈیا

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ DD
Image caption قوم سے خطاب کے دوران انڈیا کے وزیر اعظم نے کئی سکیم کے بارے میں اعلان کیا

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کی شب قوم سے خطاب کیا ہے جس میں انھوں نے لوگوں کے ضبط کا شکریہ ادا کیا۔

اور 'ریٹرن گفٹ' کے طور پر انھوں نے کئی بڑے اعلان کیے جن میں حاملہ خواتین کو سرکاری امداد، غریبوں کے لیے مکان کی تعمیر، کسانوں کو قرض میں چھوٹ اور کم شرح سود پر قرض، معمر افراد کے لیے سکیمیں وغیرہ شامل ہیں۔

گذشتہ نومبر کی آٹھ تاریخ کو بڑے کرنسی نوٹ پر پابندی کے اعلان کے بعد مسٹر مودی کا یہ قوم سے پہلا خطاب تھا جو کہ سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا موضوع رہا اور اس حوالے سے دو ہیش ٹیگ قابل ذکر رہے ایک 'مودی سپیچ' اور دوسرا 'مترو' یعنی دوستو۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 500 اور 1000 کے نوٹ سے متوازی معیشت زیادہ چل رہی تھی اور ان کے فیصلے سے اس پر ضرب پڑی ہے۔

انھوں نے کہا ملک میں صرف 24 لاکھ لوگ ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے پورے خطاب میں اعدادوشمار کے نام پر یہی ایک بات کہی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بے ایمانوں کے خلاف قانون سخت رویہ اپنائے گا جبکہ حکومت ایمانداروں کو تحفظ فراہم کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شیوسینا کی رکن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے خطاب میں کوئی چیز نئي نہیں تھی

انھوں نے دعوی کیا کہ نوٹوں پر پابندی کے نتیجے میں دہشت گردی اور جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے کو کافی نقصان ہوا ہے۔

ان کے مطابق ملکی معیشت سے باہر جو دولت تھی وہ اب بینکوں کے ذریعے معیشت کا حصہ ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ بے ایمانی کے عادی لوگوں کو بھی اس تکنیک کے سبب مرکزی دھارے میں آنا پڑے گا اور جنھوں نے اس دوران بے ایمانی کی ہے ان بخشا نہیں جائے گا۔

بہر حال سماجی رابطے کی سائٹس پر مسٹر مودی کے خطاب کو زیادہ تر یا تو تنقید کا سامنا ہے یا پھر مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مودی نے قوم کو انفرینڈ کر دیا

ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے اپنے ایک ٹویٹ میں نریندر مودی کو قطار میں مرنے والے 112 افراد کی 'موت کا ذمہ دار' قرار دیا ہے۔

انھوں ٹویٹ کیا: 'مودی بابو، آپ مکمل طور پر خود پسند ہیں۔ آپ 112 افراد کی موت کے ذمہ دار ہیں۔'

خبررساں ادارے اے این آئي کے مطابق بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیو سینا کی رکن منیشا کیاندے نے کہا کہ انھیں امید تھی کہ وزیر اعظم ان لوگوں کے بارے میں ضرور کچھ کہیں گے جنھوں نے قطاروں میں جان گنوائی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 'ان کے خطاب میں نیا کچھ نہیں تھا۔'

رمیش شريوتس نے ٹوئٹر پر لکھا: 'مودی نے ایک بھی بار 'مترو' نہیں کہا۔ مودی نے ملک کو انفرینڈ کر دیا ہے۔'

Trendulkar ہینڈل سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گيا: 'ایک بھی بار مترو نہیں کہا۔ 100 کروڑ لوگوں کے ساتھ ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔'

ٹویٹر پرDhruv_Axom نے لکھا: 'مودی نے ایک بار بھی مترو نہیں کہا۔ جن 35 متروں نے آج اروناچل پردیش میں بی جے پی جوائن کیا ہے، آج وہ ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مترو سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا

امیش دویدی نے فیس بک پر لکھا: 'سیف علی خان کو شدید نقصان۔ 6000 روپے نہیں ملیں گے۔'

اس طرح کے بہب سے ٹویٹ بالی وڈ اداکارہ کرینہ کپور کے لیے بھی ہیں جن کے ہاں حال میں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ ان ٹویٹس اور اشارہ وزیر اعظم کی جانب سے حاملہ خواتین کو دی جانے والی چھ ہزار روپے امدادی رقم کی جانب ہے۔

جاوید لکھتے ہیں: 'نوٹ پر پابندی سے کیا حاصل ہوا؟ یہ تو بتایا ہی نہیں۔' اس طرح کے بے شمار ٹویٹس موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption وزیر اعظم نے کسانوں اور خواتین کے لیے کئی سکیم کا اعلان کیا

ہرشتا لکھتی ہیں: 'پی ایم نے ملک سے خطاب کیا ہے۔ بجٹ پیش نہیں کیا۔ اتنا تجزیہ مت کرو۔'

نوین کھیتان نے لکھا: 'کتنی پرانی کرنسی واپس ہوئی؟ کتنی نئي کرنسی جاری کی گئی؟ حکومت کو اس فیصلے کے لیے کس نے مشورہ دیا؟ وزیر اعظم کے پاس کوئي جواب نہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں