ایران: طالبعلم رہنما آرش صادقی کی رہائی کے لیے جیل کی طرف مارچ

آرش صادقی تصویر کے کاپی رائٹ NOORIZAD
Image caption آرش صادقی کے حامیوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جلوس نکالا

ایران میں سینکڑوں لوگوں نے تہران کی اوین جیل کی طرف مارچ کر کے ایک طالبعلم رہنما کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو 71 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

آرش صادقی ملک کے خلاف سازش اور پروپیگنڈے کے الزام میں 19 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنی اہلہ گل رخ ابراہیمی کے ساتھ مل کر سنگساری کی سزا کے خلاف ایک کہانی لکھی تھی جس کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

صادقی ان آٹھ ایرانی قیدیوں میں سے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور جمعے کو SaveArash # کے نام سے ان کے حق میں ایک بین الاقوامی ہیش ٹیگ مہم بھی چلائی گئی۔

اس مہم کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پذیرائی حاصل ہوئی حالانکہ ایران میں ٹوئٹر پر پابندی ہے۔

صادقی کا دعویٰ ہے کہ ان کی اہلیہ گل رخ کی چھ سالہ سزا کا مقصد بھی انھیں تکلیف پہنچانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@HALVLID
Image caption آرش صادقی کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم دنیا بھر میں ٹرینڈ کر رہی ہے

گل رخ کو گذشتہ برس ایک غیر مطبوعہ کہانی لکھنے کی پاداش میں یہ سزا دی گئی تھی۔ یہ ایک ایسی عورتر کے بارے میں ہے جسے غیر ازدواجی تعلقات کے جرم میں سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل ان سزاؤں کو 'مزاحیہ' اور مقدمے کو 'مضحکہ خیز' قرار دیا تھا۔

اس جوڑے کو چھ ستمبر 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کو یہ کہانی ان کے گھر پر ایک ڈائری میں لکھی ہوئی ملی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں