ڈھاکہ کے کیفے پر حملے کا سرغنہ ہلاک: پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی پولیس کہ مطابق گذشتہ برس جولائی میں ڈھاکہ کے ایک کیفے پر حملے کے واقعے میں مشتبہ سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

نور الاسلام مرزان اور ان کا ایک ساتھی جمعے کو پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ڈھاکہ کے ایک بازار سے ملیں۔

یاد رہے کہ پچھلے سال ہونے والا یہ حملہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ تھا جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 12 گھنٹے جاری رہنے والی اس کارروائی میں دو پولیس اہلکار اور چھ دہشت گرد ہلاک ہوۓ تھے۔

جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) سے تعلق رکھنے والے نور الاسلام مرزان کو اس حملے کا آپریشنل سربراہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تقریباً 30 سالہ نور الاسلام مرزان نے 2015 میں جے ایم بی میں شمولیت اختیار کی تھی جس سے پہلے وہ چٹاگانگ یونیورسٹی میں عربی زبان کا طالبعلم تھا۔

اس حملے کے بعد سے حکام نے مختلف چھاپوں میں جے ایم بی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہلاک کیا ہے۔

یاد رہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس حملے کا ذمہ داری قبول کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں