انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملہ، تین ہلاک

اکھنور تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے کا تازہ واقعہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جموں کے علاقے میں اکھنور میں پیش آیا ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح جموں کے سرحدی قصبہ اکھنور میں واقع جنرل ریزرو انجنئرنگ فورس یا گریف کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے۔

پولیس کے مطابق حملے میں گریف سے وابستہ تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس حملے کے بعد اکھنور اور گردونواح کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم پولیس اور فوج کا دعوی ہے کہ یہ حملہ پاکستانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے کیا ہے۔

* ’کشمیر میں تشدد نے نوجوانوں کو نڈر کر دیا ہے‘

٭ ایل او سی پر فائرنگ:’پاکستان کے چار شہری انڈیا کے چھ فوجی ہلاک‘

٭ ایل او سی پر انڈین فائرنگ سے 'دس پاکستانی ہلاک'

سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کی رکھی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو سے تین حملہ آور تھے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے ‌ڈیفنس کے پبلک ریلیشن آفیسر منیش مہتا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ درانداز رات ڈیڑھ بجے سرحد پار سے آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں گذشتہ سال سے انڈیا کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے

گریف دراصل انڈیا کی بارڈر روڈز آرگنائزییشن جیسے اداروں کا نگراں ادارہ ہے۔ اس کا کام سرحدی علاقوں میں فوج کی نقل و حمل کو آسان بنانا اور شاہراہوں کی نگہداشت کرنا ہے۔ واضح رہے اکھنور جموں کے نواح میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

29 ستمبر کو انڈیا کی طرف سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں خفیہ مسلح ٹھکانوں پر سرجکل سٹرائک میں تباہ کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔ اس دعوے کی پاکستان نے تردید کردی تھی، لیکن جموں کشمیر اور پاکستانی سرحد کے قریب دوسری ریاستوں میں فوجی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

انڈیا میں دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 'سرجیکل سٹرائک' کے بعد پاکستان کی جانب سے در اندازی میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعلی محبوبہ مفتی نے پیر کے روز قانون ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اکھنور حملے کی مذمت کی اور کہا کہ 'کوئی بھی ذی شعور شہری انسانی جانوں کے تلف ہونے پر خوش نہیں ہوسکتا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں