رفسنجانی محتاط اور حقیقت پسند رہنما

اکبر ہاشمی رفسنجانی تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آٹھ سال تک ملک کے صدر اور ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک، اکبر ہاشمی رفسنجانی آٹھ جنوری سنہ 2017 کو اپنی موت کے دن تک ایران کی چند بااثر شخصیات میں سے ایک تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 82 سال تھی۔

ایک 'محتاط حقیقت پسند' کی حیثیت سے تسلیم کیے جانے والے اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کے مذہبی حلقوں کے مقتدر رکن تھے جن کو ملک میں اعتدال پسند حلقوں میں بھی کافی پسند کیا جاتا تھا۔ ان کے ایران کے رہبراعلی آیت اللہ خامنہ ای سے بھی اچھے تعلقات تھے اور ساتھ ساتھ انھوں نے عوامی طور پر ایرانیوں کے لیے مزید سماجی آزادیوں کے حق کے لیے بھی آواز اٹھائی۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کی امیر ترین شخصیات میں سے ایک تھے اور تمام عمر انھوں نے ملک کے کے اہم تجارتی اور کاروباری حلقوں سے تعلقات بنا کر رکھے۔ سنہ 2003 میں جریدے فوربس نے ان کا نام ’ارب پتی ملاؤں‘ کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا۔

ان پر کئی الزامات تھے کہ انھوں نے اپنے سیاسی تعلقات کو استعمال کرتے ہوۓ بڑے پیمانے پر پیسے کمائے لیکن اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ہمیشہ ان کی تردید کی۔ بہت سے ایرانیوں کے لیے ان کا لقب اکبر شاہ تھا۔

سنہ 2002 میں اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کے قدامت پسند عالموں، فوجی کمانڈروں اور عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہے تھے اور ساتھ ساتھ پارلیمان میں اپنی سیٹ بھی ہار گئے تھے لیکن اِسی سال وہ طاقتور مصالحتی کانسل کے سربراہ کے حیثیت سے بھی منتخِب ہوۓ اور مرتے دم تک اسی عہدے پر قائم رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایرانی صدر حسن روحانی سب سے پہلے ہسپتال پہنچنے والوں میں شامل تھے

تین سال بعد یعنی سنہ 2005 میں اکبر ہاشمی رفسنجانی صدارتی انتخاب کے لیے دوبارہ کھڑے ہوۓ لیکن محمود احمدی نژاد کے ہاتھوں ان کو شکست ہو گئی۔ سنہ 2013 میں انھوں نے دوبارہ صدر بننے کے کوشش کی لیکن ایران کے الیکشن کے نگراں ادارے نے ان پر عین وقت پر پابندی عائد کر دی۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی کھلے عام محمود احمدی نژاد کے سخت ناقد رہے اور موجودہ صدر اصلاح پسند حسن روحانی کے حامی۔

1934 میں جنوبی ایران میں پیدا ہونے والے اکبر ہاشمی رفسنجانی نے قُم شہر سے مذہبی تعلیم حاصل کی جہاں انھیں ایرانی انقلاب کے مرکزی رہنما آیت اللہ خمینی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ بعد میں وہ آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی بھی بن گئے۔

سنہ 1980 سے 1989 تک اکبر ہاشمی رفسنجانی ایرانی پارلیمان کے سپیکر رہے اور عراق جنگ کے آخری سال آیت اللہ خمینی نے ان کو فوج کا قائم مقام سربراہ بھی مقرر کر دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عراق سے جنگ بندی کی اقوام متحدہ میں قرارداد کے پیچھے اکبر ہاشمی رفسنجانی کا ہی ہاتھ تھا۔

صدر بننے کے بعد اکبر ہاشمی رفسنجانی نے مغربی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا اور ایران کو علاقائی طاقت کی حیثیت سے دوبارہ ابھارنے کی کوششیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سخت اسلامی سزاؤں کے خلاف بھی آواز اٹھائی

ملک کے اندر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے معیشت کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی لیکن ناقدین کے مطابق وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سخت اسلامی سزاؤں کے خلاف بھی آواز اٹھائی اور ساتھ ساتھ عورتوں کو نوکریوں کے بہتر مواقع فراہم کیے۔

محمود احمدی نژاد کے دور صدارت میں اکبر ہاشمی رفسنجانی نے معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان ہوا ہے۔

جوہری پروگرام کے معاملے پر اکبر ہاشمی رفسنجانی مغربی ممالک سے بات چیت کے حامی تھے لیکن ساتھ ہی اپنے ہم وطنوں کو دھونس اور زبردستی سے بچنے کے تاکید بھی کی۔

سنہ 2002 میں مصالحتی کانسل کا سربراہ مقرر ہونے سے اکبر ہاشمی رفسنجانی کی طاقت میں کافی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سنہ 2006 میں وہ ماہرین کی اسمبلی کے سربراہ منتخب ہوئے اور اگلے سال رہبر اعلی منتخب کرنے والی تنظیم کے بھی سربراہ منتخِب ہو گئے۔

سنہ 2009 کے صدارتی انتخابات میں اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اصلاح پسند امیدوار میر حسین موساوی کی حمایت کی لیکن وہ محمود احمدی نژاد سے شکست کھا گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رفسنجانی کی پکڑ حکومت اور حزب اختلاف دونوں حلقوں میں بتائی جاتی تھی

ان انتخابات کے بعد رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے خود کو اکبر ہاشمی رفسنجانی دور کر لیا اور ساتھ ہی ان سے تہران کے مرکزی خطبہ دینے کا اعزاز بھی واپس لے لیا۔ اکبر ہاشمی رفسنجانی کی مشکلات بڑھتی گئیں اور ماہرین کی اسمبلی کے سربراہ کی پوزیشن بھی چھن گئی۔ دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے بیٹے اور بیٹی دونوں کو عارضی طور پر قید بھی کیا گیا۔

لیکن ملک کے اعتدال پسند حلقوں میں اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ہمیشہ حمایت ملی اور یہ تاثر رہا کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں میں ان کے اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے وہ ملکی سیاست میں زیادہ شفافیت لا سکیں گے۔

سنہ 2013 میں حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد اکبر ہاشمی رفسنجانی کا اثر مزید بڑھ گیا اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی کی اچانک موت سے مئی میں صدارتی انتخاب کی تیاری میں مصروف حسن روحانی کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خبروں کے مطابق اکبر ہاشمی رفسنجانی کی موت کے بعد حسن روحانی سب سے پہلے ہسپتال گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی کے لواحقین میں ان کے اہلیہ عفت مراشی، ان کے بیٹے محسن، مہدی اور یاسر اور ان کی بیٹیاں فاطمہ اور فائزہ شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں