تیج بہادر کی ویڈیو انڈین سکیورٹی حکام کے لیے درد سر

بی ایس ایف کا ردعمل تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا میں بی ایس ایف یعنی بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان نے اپنی خوراک کے معیار سے متعلق اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کرکے جو تہلکہ مچایا اس نے نہ صرف بی ایس ایف اور بھارتی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ ٹویٹر پر سامنے آنے والا ردعمل بھی دلچسپ ہے۔

سپاہی تیج بہادر یادو نے اپنے ویڈیو کلپ میں سینیئر فوجی حکام پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

ٹویٹر پر 'ہیش ٹیگ بی ایس ایف سولجرز فیسِنگ فوڈ کرائسِس' کے عنوان سے اس پر نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان سے بھی بہت سی ٹویٹس ہو رہی ہیں۔

تیج بہادر یادو کی ویڈیو کے بعد بی ایس ایف کو اپنے دفاع میں بیان دینا پڑا۔

انڈین نیوز چینل 'زی نیوز' نے بی ایس ایف حکام کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'سپاہی تیج بہادر شرابی ہیں۔ ان کا ماضی مشکلات میں گزرا ہے۔'

اس پر انڈین صحافی ہریندر بویجا نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ 'اگر بی ایس ایف کے جوان کا ڈسپلین خراب تھا اور وہ مدہوش تھا تو اس کے خلاف اس وقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ اب کیوں، جبکہ اس نے ویڈیو پوسٹ کی؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اپنے پیغام میں تیج بہادر نے الزام لگایا تھا کہ جوانوں کے لیے سامان کی کمی نہیں ہے لیکن ان کے حصے کا راشن فوجی افسر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اور انھیں مناسب کھانا تک نہیں ملتا ہے۔

روہِت کمار گپتا، سوشل میڈیا ایکٹیوِسٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ سچ بولنے پر انھیں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ آئیں ان کی حمایت کریں۔'

اس خبر اور اس پر ظاہر کیے جانے والے ردعمل کو بڑے ذرائع ابلاغ نے بھی آج اپنا موضوع بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

'جنتا کا رپورٹر' نامی انڈین نیوز ویب سائٹ نے ٹویٹ کیا ہے کہ سپاہی کی حالتِ زار پر شرمناک بیان کے بعد بی ایس ایف کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانیوں نے اس خبر پر اپنے زاویہ نظر سے ٹویٹس کی ہیں۔ مثلاً بلاگر احمد علی نے تبصرہ کیا ہے: 'انڈین حکومت اپنے فوجیوں تک کو تو کِھلا نہیں سکتی اور دعوٰی کرتی ہے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائک کا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

فوٹوگرافر ارم احمد خان نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ 'پاکستان کے اندر جعلی سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کی بجائے اپنی بھوکی فوج کا پیٹ بھرو۔'

پاکستانی کالم نگار شاہزیب خان نے ٹویٹ کیا 'بی ایس ایف کے سپاہی یادو نے انڈین آرمی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سپاہیوں کے لیے خوراک کی کمی کو طشت از بام کر دیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا میں شوبز کی معروف شخصیت نوید جعفری نے اپنے ٹیوٹیر اکاؤنٹ پر حکام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: 'حکامِ اعلی کچھ شرم کرو! وہ لوگ ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔ ہم اپنے جوانوں کو سلام کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈیا پر کئی کامنٹس میں طنزاً کہا جا رہا ہے 'تو اب وزرا کو بولنے پر مجبور کرنے کے لیے ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا پڑیں گی۔'

ماضی میں بھی عام شہریوں کی ایسی کئی پوسٹس کی کئی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اپنے تخلیق کاروں کو شہرت اور مقبولیت سے ہمکنار کیا ہے۔ اب ان میں سپاہی تیج بہادر یادو کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں