راہل گاندھی کا مودی پر جوابی وار

راہول گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہل گاندھی نے ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی تقریر کی اور پارٹی کارکنان کے سوالوں کا جوابات بھی دیتے نظر آئے

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے دہلی کے تال کٹورا سٹیڈیم میں پارٹی کی جن ویدنا کانفرنس میں جب 'مترو' کہہ کر اپنی تقریر کا آغاز کیا تو وہاں پرموجود کارکنان نے زور دار قہقہہ لگایا۔

واضح رہے کہ مودی اپنے کسی بھی خطاب میں درجنوں بار مترو (دوستو) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعد راہل گاندھی نے ایک جلسۂ عام میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کچھ تلخ سوال پوچھے تھے۔ لیکن مودی نے راہل کے سوالوں کو مذاق اڑا دیا تھا۔ اس پر کانگریس پارٹی کے نائب صدر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا: 'آپ میرا مذاق اڑائیں مگر میرے سوالات کا تو جواب دیں۔'

دہلی میں خطاب کے دوران ایسے کئی اور بھی مواقع آئے جب راہل نے طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہوئے مودی پر سخت تنقید کی۔ وہ بالکل بدلے ہوئے انداز میں نظر آئے۔

ویسے تو جب بھی راہل گاندھی کہیں کچھ بھی بولتے ہیں تو سوشل میڈیا پر ان کی تقریر کے حوالے سے چٹكياں لی جاتی ہیں، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ لیکن بدھ کے روز تال کٹورا سٹیڈیم میں ان کے خطاب کو ٹوئٹر اور فیس بک پر خوب سراہا گیا ہے۔

وہ ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی بولے اور پارٹی کارکنان کے سوالوں کا جوابات بھی دیتے نظر آئے۔

دلی میں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں راہل گاندھی کی تقریروں میں خاصی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ کانگریس پارٹی پر نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ ہفتوں میں راہل گاندھی نے پارلیمان میں خطاب کیا ہو یا پھر کہیں باہر، ان کی تقریر پر بحث ضرور ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہل گاندھی نے کچھ ایسا سماں باندھا کہ ان تقریروں کے بارے میں جو عام تاثر ہے اس کے یہ بالکل برعکس تھا

تال کٹورا سٹیڈیم میں راہل کے ساتھ سٹیج پر سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی موجود تھے۔

اپنے خطاب میں جب انھوں نے بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے طنز کیا تو فلم 'نمک حلال' کے ایک نغمے کا سہارا لیتے ہوئے کہا: 'آپ کا تو لگتا ہے بس یہی ہے سپنا، رام رام جپنا پرایا مال اپنا۔'

اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پرکئی بار طنز کیا۔ مریخ کے مشن پر انڈیا کے 'منگل یان' کی بات کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے منگل یان تو 15 منٹ میں بنا دیا۔ لیکن اس میں صرف ایک کمی رہ گئی تھی۔ اس میں مودی جی کی تصویر نہیں تھی بس۔'

ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اب تک یہ تاثر عام رہا ہے کہ راہل گاندھی سیاسی رہنما کے طور پر بہترین مقرر نہیں ہیں اور اسی وجہ سے ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا رہا ہے۔ لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اب پہلے سے کافی بہتر ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں