کمزور کانگریس بی جے پی کا خواب تباہ کر سکتی ہے؟

راہل گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہل گاندھی حال میں زیادہ فعال نظر آ رہے ہیں تاہم ان کے لیے اترپردیش میں اتحاد بہت ہی اہم ہے

انڈیا کی سب سے بڑی جماعت کانگریس ملک کی سیاست پر تقریباً 65 برس تک غالب رہنے کے بعد پہلی بار حقیقی معنوں میں ختم ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئی ہے۔ دلی میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس ملک کی ریاستوں کے اقتدار سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے۔

پارٹی کی صدر سونیا گاندھی علیل ہونے کے سبب رفتہ رفتہ سرگرم سیاست سے علیحدہ ہو چکی ہیں۔ کانگریس کے سیاسی وارث سمجھے جانے والے راہل گاندھی مسلسل سرگرم رہنے کے باوجود ابھی تک ملک کی عوام پر کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ پارٹی اب محض دو تین ریاستوں تک محدود ہو چکی ہے۔

آئندہ ماہ پنجاب اور اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ کانگریس انڈیا کی سیاست پر اس وقت غالب تھی جب اتر پردیش پر اس کی حکومت تھی۔ یو پی نکل جانے بعد کانگریس مسلسل کمزور ہوتی گئی۔ اس کی جگہ ریاست میں ابھرنے والی دو علاقائی جماعتوں سماجوادی پارٹی اور بھوجن سماج پارٹی نے لے لی۔ اب بی جے پی اتر پردیش پر قابض ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکز میں اقتدار میں ہونے سے یہ کام اس کا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔

کانگریس اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے کہ اگر اسے بی جے پی کی یلغار سے بچنا ہے تو اسے سب سے پہلے اتر پردیش میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ پارٹی نے خود کو یقینی خاتمے سے نکالنے کے لیے ایک انتخابی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ کئی مہینے کے تجزیے اور مطالعے کے بعد پارٹی کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس کے تحت وہ صرف 25 فیصد سیٹوں پر ہی اپنی پوری توجہ مرکوز کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption بی جے پی اترپردیش میں اقتدار میں آنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتی ہے

بی جے پی کے جارحانہ تیور سے سماج وادی پارٹی بھی بری طرح گھبرائی ہوئی ہے۔ اسے بھی ریاست میں اپنی زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس ایک دوسرے کی سخت م‍خالف رہی ہیں۔ لیکن سیاسی حالات نے دونوں کو بظاہر قریب لا دیا ہے۔

اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں جماعتیں انتخاب سے پہلے مفاہمت کرنے والی ہیں۔ اگر ان دونوں جماعتوں میں انتخابی معاہدہ ہو گیا تو یہ بی جے پی کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ کانگریس کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔

اگر بہار کی طرح یہاں بھی اس طرح کے ممکنہ اتحاد کی جیت ہو جاتی ہے تو کانگریس ریاست میں اقتدار میں آ سکتی ہے۔ اس صورت میں کانگریس میں نہ صرف نیا جوش و جذبہ پیدا ہو سکتا ہے بلکہ یہ بی جے پی کے مستقبل کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کانگریس اور سماج وادی دونوں ہی اس اتحاد کے لیے کو شاں ہے کیونکہ یہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سماجوادی پارٹی ان دنوں خانہ جنگی سے نبرد آزما ہے

لیکن اگر کانگریس کا اتحاد نہ ہو سکا تو وہ اتر پردیش میں گذشتہ انتخابات سے بھی نیچے جا سکتی ہے اور پارٹی کے لیے یہ تباہ کن ہو گا۔ کانگریس کی بقا کے لیے اتر پردیش کے انتخابات بہت اہم ہیں۔ اس کا ریاست کے اقتدار میں حصے دار ہونا اس کے مستقبل کے لیے لازمی ہے۔

اس کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ انتخابات سے پہلے اس کا کسی ایسی جماعت سے اتحاد ہو جس کے اقتدار میں آنے کے امکانات ہوں۔ اس کا ایک صحیح قدم مستقل کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں