چینی زبان میں انقلاب برپا کرنے والے ماہر لسانیات چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسٹر زوو کو لکھنے کے نظام، پنین کا خالق سمجھا جاتا ہے

چینی ماہر لسانیات زو یاگوانگ ایک سو گیارہ سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ مسٹر زوو کو لکھنے کے نظام، پنین کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ پنین کے ذریعے رومن حروف تہجی کے الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے چینی زبان کو سمجھایا جاتا ہے۔ زوو نے پنین سسٹم بنانے کا کام کمیونسٹ پارٹی کی ایک کمیٹی کے ساتھ مل کر تین سال میں مکمل کیا تھا۔

اس سسٹم نے چین میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ پنین بننے سے پہلے چین کی پچاسی فیصد آبادی پڑھنے سے قاصر تھی۔ لیکن آج چین کی سو فیصد آبادی پڑھ سکتی ہے۔

زو یاگوانگ کو ثقافتی انقلاب کے دوران دوردراز علاقے میں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا اور وہ اپنی بقیہ زندگی میں کمیونسٹ پارٹی کے ناقد رہے اور اس بارے میں انہوں نے کئی ایک کتابیں بھی لکھیں جن میں زیادہ تر پر پابندی لگائی گئی۔

دو ہزار گیارہ میں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ تب تک زندہ رہیں جب تک چینی حکام یہ تسلیم نہ کر لیں کہ 1989 میں تیانامن سکوئیر میں جمہوریت کے لیے مظاہرہ کرنے والے لوگوں پر تشدد غلطی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی اب عام لوگوں کی پارٹی نہیں رہ گئی اور چین کے زیادہ تر دانشور ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات