مغل اعظم، تاج واپس چاہیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اتر پردیش کی سیاست اور زیادہ فلمی ہوتی جارہی ہے اور اب سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار کی جنگ میں وہ خود اپنے بیٹے اور موجودہ وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔

ریاست میں سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے اور فروری مارچ کے الیکشن میں اسے سخت چیلنج کاسامنا ہے۔

اترپردیش کی ’مغل اعظم‘

اتر پردیش :حکمراں جماعت میں ’تقسیم‘ باپ بیٹے آمنے سامنے

پارٹی ملائم سنگھ یادو نے بنائی تھی لیکن پانچ سال پہلے جب غیرمتوقع طور پر اسے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوگئی تو انھوں نے اپنے نوجوان بیٹے اکھیلیش کی تاجپوشی کردی۔

اب انھیں یہ تاج واپس چاہیے کیونکہ اکھیلیش اب اپنے منتخب کردہ راستے پر چلنا چاہتے ہیں جو ملائم سنگھ اور ان کے بھائی شوپال یادو کو منظور نہیں ہے۔

لیکن گذشتہ پانچ برسوں میں حالات بدل چکے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو اور بوڑھے ہو گئے ہیں اور پانچ سال وزیراعلیٰ رہنے کے بعد اکھیلیش یادو نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔

ملائم سنگھ کی سیاست مسلمانوں کے دم پر چلتی ہے۔ اتر پردیش میں رام مندر کی تحریک کے دوران انھیں مولانا ملائم سنگھ کا لقب دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی نشان پر کس کا حق ہوگا یہ الیکشن کمیشن طے کرے گا

اس دور میں انھوں نے بابری مسجد کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور آخرکار جب بابری مسجد مسمار ہوئی تو ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ مذہبی منافرت کے اس ماحول میں ملسمانوں نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر ملائم سنگھ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔

اب ملائم سنگھ کا کہنا ہے کہ اکھیلیش اقلیتوں کو ناراض کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ دونوں کے اختلافات اب کچھ اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ صلح کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے۔

ملائم سنگھ یادو نے آج کہا کہ انھوں نے کئی مرتبہ اکھیلیش کو بلایا، وہ آئے تو لیکن ان کی بات سنے بغیر ہی لوٹ گئے۔

باپ بیٹےکی یہ جنگ بی جے پی اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کی بہجن سماج پارٹی کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ مسلمان ووٹ اگر تقسیم ہوں گے تو دونوں کو فائدہ ہوگا اوراگر مسلمانوں کو یہ لگتا ہے کہ سماجوادی پارٹی بکھر رہی ہے یا موجودہ حالات میں بی جے پی کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو وہ بہوجن سماج پارٹی کا رخ کر سکتے ہیں۔

فی الحال، اکھیلیش یادو کا پلڑا بھاری ہے، پارٹی کے اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وقت اکھیلیش کو ’آشیرواد‘ دینے کا ہے، اس سے تاج چھیننے کا نہیں۔

لیکن یہ سیاست ہے اور سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں