انڈیا: الیکشن سے قبل دیوبند کے دروازے سیاستدانوں کے لیے بند

Image caption ماضی میں انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہمنا مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے دارالعلوم کا دورہ کرتے رہے ہیں

فروری کے پہلے ہفتے سے مارچ کے وسط تک انڈیا کی ریاست اتر پردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ انتخابات کی تکمیل تک کسی بھی جماعت کے امیدوار کو سیاسی مقاصد کے لیے کیمپس میں آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ کسی کو کیمپس میں آنے سے روکا نہیں جا سکتا لیکن اس مدت میں دارالعلوم کے سربراہ اور دوسرے بڑے اساتذہ بھی کسی جماعت کے مسلم رہنماؤں سے ملاقات نہیں کریں گے۔

دارالعلوم نے بظاہر یہ قدم کسی غیر ضروری سیاسی تنازعے سے بچنے کے لیے اٹھایا ہے۔ ماضی میں انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہمنا مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے دارالعلوم کا دورہ کرتے رہے ہیں۔

سرکردہ اسلامی درسگاہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دارالعلوم میں سیاستدانوں یا سیاست میں سرگرم افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ 'طلبا اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی طرح کے سیاسی بحث و مباحثے سے گریز کریں۔ ہم اپنی مذہبی درسگاہ کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔'

Image caption طلبا اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی طرح کے سیاسی بحث و مباحثے سے گریز کریں۔

ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دیو بند سمیت مغربی اتر پردیش کے 73 حلقوں میں 11 فروری کو ووٹ دالے جائیں گے۔ دیو بند قصبہ سہارنپور ضلع میں واقع ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً بیس فی صد ہے اور وہ کسی بھی پارٹی کی ہار جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ریاست میں اس بار مقابلہ حکمراں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس تقریـیـاً پچیس برس کے وقفے کے بعد خود کو اوپر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے ووٹ کم و بیش سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان منقسم ہیں۔

دارالعلوم دیوبند انتخابات میں براہ راست کسی جماعت یا اتحاد کی حمایت سے گریز کرتا رہا ہے۔ لیکن دارالعلوم سے وابستہ کئی اہم شخصیات انتخابی سیاست میں سرگرم رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں