انڈيا: سماجوادی پارٹی کا انتخابی نشان اکھیلیش یادو کے ہاتھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچھ دن پہلے اکھلیش یادو نے پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا اور اجلاس کے بعد خود کو پارٹی کا قومی صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا تھا

انڈیا کے قومی انتخابی کمیشن نے اپنے ایک اہم فیصلے میں سماجوادی پارٹی کے انتخابی نشان کو ریاست اترپردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش سنگھ یادو کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کے والد اور پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کو اس کیس میں شکست ہوئی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے بانی اور یو پی کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اکھیلیش کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد فریقین نے پارٹی کے انتخابی نشان کے لیے الیکشن کمیشن میں دعویٰ کیا تھا۔

اس کے حوالے سے گذشتہ چند روز سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن اس فیصلے کے بعد پارٹی کے اندر جاری یہ رساکشی اب ختم ہوگئی ہے۔

انتخابی کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انتخابی نشان اور پارٹی کی صدارت پر ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو کا حق ہے۔

اس خبر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سرکردہ رہنما رام گوپال یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست اور منصفانہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کے بیشتر ارکان اکھیلیش یادو کے ساتھ ہیں اور دوسرا گروہ اس سلسلے میں کمیشن کے سامنے ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچھ دن پہلے اکھلیش یادو نے پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا اور اجلاس کے بعد خود کو پارٹی کا قومی صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا تھا

رام گوپال یادو نے ریاست کی عوام سے اپیل کی کہ وہ اکھیلیش یادو کو دوبارہ وزیر اعلی منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں۔ انھوں نے پارٹی کارکنان سے بھی انتخابات میں لگ جانے کی اپیل کی۔

کچھ دن پہلے اکھلیش یادو نے پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا اور اجلاس کے بعد خود کو پارٹی کا قومی صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد ملائم سنگھ نے کہا تھا کہ پارٹی کا اجلاس بلانے کا حق صرف قومی صدر یعنی انھیں ہے اور انھوں نے اجلاس کو ہی غیر قانونی قرار دیا تھا۔

تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما اعظم خان نے باپ بیٹے میں صلح کی کوششیں بھی کی، لیکن کامیابی ہاتھ نہیں لگی۔

الیکشن کمیشن نے دونوں فریقوں کی دلیلوں کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جس کا اعلان پیر کی شام کو کیا گيا۔

ریاست اترپردیش میں اگلے ماہ سے چھ مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس فیصلے کے بعد اب یہ بات تقریبا طے ہے کہ یو پی میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں