افسوس ’سائیکل پر‘ ہم نہ ہوں گے!

اترپردیش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اترپردیش میں آئندہ ماہ اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور حکمراں جماعت کا انتخابی نشان سائیکل ہے

تو انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو نے سماج وادی پارٹی میں جاری باپ بیٹے کی جنگ میں پہلی بازی جیت لی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اکھیلیش کی قیادت والا گروپ ہی اصل سماج وادی پارٹی ہے اس لیے سائیکل کےانتخابی نشان پر انھی کا حق بنتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اکھیلیش اپنے والد، سابق وزیراعلیٰ اور پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو سےملنے گئے اور ٹوئٹر پر ان کے ساتھ اپنا ایک فوٹو بھی پوسٹ کی۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’سائیکل چلتی رہے گی، آگے بڑھتی رہے گی۔‘

اسمبلی کے گذشتہ انتخابات کے بعد انھوں نے خود اکھیلیش کو سائیکل پر بٹھایا تھا۔ سائیکل تو چلتی رہے گی لیکن اس کے کریئر پر ملائم سنگھ سوار نہیں ہوں گے!

آکسیجن اندر آکسیجن باہر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا میں بہت سے لوگوں کے لیے گائے قابل احترام ہے

سائیکل کی بڑی خوبیاں ہیں، سائیکل چلانےسے صحت اچھی رہتی ہے اور آب و ہوا صاف۔ لیکن اگر آپ کو سائیکل کا شوق نہ ہو، یا آپ کی سائیکل آپ کے بیٹے نے ہی آپ سے چھین لی ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ نئی ٹکنالوجی کا دور ہے اس میں متبادل کی کمی نہیں۔ آپ ایک گائے پال سکتے ہیں!

گائے کےدودھ، پیشاب اور گوبر کی خوبیوں کے بارے میں تو آپ نے بہت سنا ہوگا، اس پر حال ہی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی یا آئی آئی ٹی میں بھی ایک ورک شاپ منعقد کی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ آئی آئی ٹی کا شمار ملک کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے اس لیے ورک شاپ میں ایک سے بڑھ کر ایک تجاویز سامنے آئیں۔

سائسندانوں نے کہا کہ ایک ’گائے سائنس یونیورسٹی‘ قائم کی جانی چاہیے اور یہ کہ کینسر کے علاج میں گائے کے پیشاب کی افادیت پر ریسرچ ہونی چاہیے۔

لیکن ان سائنسدانوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ گائے جب سانس لیتی ہے تو آکسیجن اندر جاتی ہے اور جب سانس چھوڑتی ہے تو باہر بھی آکسیجن ہی آتی ہے۔

یہ معلومات راجستھان کے وزیر تعلیم واسودیو دیونانی نے فراہم کی ہے جن کا کہنا ہے دنیا میں صرف ایک جانور ایسا ہے جو یہ کارنامہ انجام دیتا ہے۔ ان کے مطابق گائے کے قریب جانے سے نزلہ کھانسی جیسی بیماریاں بھی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

اگر کبھی ’گو سائنس یونیورسٹی‘ بنتی ہے تو وزارت تعلیم کو اس کا وائس چانسلر ڈھونڈنے میں زیادہ دقت نہیں ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ممبئی کی عدالت عالیہ کا ایک فیصلہ ان دنوں زیر بحث ہے

مرنے والے کا مذہب

اور بس آخر میں بمبئے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا ذکر کہ قتل کے جرم میں گرفتار تین افراد کو ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے کیونکہ مرنے والے کا مذہب مارنے والوں کے مذہب سے مختلف تھا اور ملزمان کو مذہبی منافرت پر اکسایا گیا تھا۔

یہ کیس پونے کا ہے جو فیس بک پر شوا جی اور بالا صاحب ٹھاکرے کی مسخ شدہ تصاویر شائع کیے جانے کے بعد رونما ہوا تھا۔

ایک ہندو شدت پسند تنظیم نے انتقام لینے کا فیصلہ کیا، اس تنظیم سے وابستہ کچھ لوگوں نے ایک بے گناہ مسلمان نوجوان کو قتل کردیا اور اس کے بعد پولیس نے مجموعی طور پر 25 لوگوں کو گرفتار کیا۔

ذیلی عدالت نے ان تینوں کو ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا لیکن بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ 'حملے سے پہلے (تنظیم کی) ایک میٹنگ ہوئی تھی، ملزمان کی بے گناہ مقتول سے کوئی دشمنی نہیں تھی، مقتول کا مذہب ملزمان کے مذہب سے مختلف تھا اور یہ بات ملزمان کے حق میں جاتی ہے کیونکہ انھیں قتل کرنے پر اکسایا گیا تھا۔'

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں