دورانِ حیض گھر سے بے دخلی کے خلاف جنگ

نیپال
Image caption ی بی سی نیپالی کی رپورٹر 24 سالہ کرشنا مایا اوپادھیایا اپنے گاؤں میں

نیپال میں ایک پندرہ سالہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد وہ قدیم ہندو روایت توجہ کا مرکز بن گئی ہے جس میں دورانِ حیض عورت کو گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ اس رواج پر سنہ 2005 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی تاہم اب بھی بعض مغربی علاقوں میں یہ جاری ہے۔ بی بی سی نیپالی کی رپورٹر 24 سالہ کرشنا مایا اوپادھیایا نے ’چوپاڈی‘ نامی اس روایت کے خلاف لڑائی کی۔

* بھارت میں حیض آج بھی ممنوع موضوع

* خواتین کی صحت میں'شرم' مانع

مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔ صرف میں ہی نہیں تھی جس کی پڑھائی کا حرج ہوتا تھا میرے گاؤں کی کئی لڑکیوں کو اسی مشکل کا سامنا تھا۔

آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔

جب 17 سال کی عمر میں اپنی کالج کی تعلیم کے لیے میں کوٹاری گاؤں سے جملا ضلعے کے دارالحکومت کھلانگا منتقل ہوئی تب بھی مجھے اس روایت کا سامنا کرنا پڑا۔

جب میں کرائے کے کمرے کی تلاش میں گئی تو مالک مکان نے پہلے یہی پوچھا کے کیا مجھے حیض آنا شروع ہو چکے ہیں؟ اور جب میں نے سچ بتایا تو مجھے واپس لوٹا دیا گیا۔ میں رونا چاہتی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ اگر میں گھر واپس جاتی ہوں تو میرے پڑھائی چھوٹ جائے گی لیکن ایسا لگ رہا تھا مجھے کرائے پر کمرہ نہیں ملے گا۔

Image caption چوپاڈی کی رسم کے تحت عورتوں کو گھر سے باہر مٹی سے بنی جھوپڑی مںی رہنا پڑتا ہے

حیض ایک ممنوعہ موضوع

  • کئی مذاہب میں خواتین کو دورانِ حیض ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔
  • ان پر عبادت گاہوں میں داخلے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی پر پابندی ہوتی ہے۔
  • چوپاڈی کی روایت مغربی نیپال میں انتہا پسند صورت میں رائج ہے جہاں عورتوں کو حیض کے دوران گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
  • انڈیا میں ہندو خواتین کو مندروں میں جانے اور مسلمان عورتوں کو دورانِ حیض مساجد میں جانے کی اجازت نہیں تاہم اس کے خلاف کچھ عدالتی فیصلے موجود ہیں۔
  • جنوبی انڈیا میں جب لڑکی بلوغت کو پہنچتی ہے تو اس پر جشن منایا جاتا ہے۔
  • مالی کے ڈوگون قبیلے میں بھی عورتیں دورانِ حیض الگ جھونپڑی میں رہتی ہیں۔
Image caption اپنی ریڈیو کی ملامت کے دوران ی کرشنا مایا اوپادھیایا کو چوپاڈی کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا

بالآخر مجھے ایک کمرہ مل گیا جہاں مالک مکان نے مجھے کہا کہ وہ مجھے نچلی منزل پر رہنے کی اجازت دے گا تاہم میں اوپری منزل پر نہیں رہ سکتی۔ میں اس کمرے میں رہنے پر راضی ہو گئی جو دوسرے کمروں سے دور اور دروازے کے قریب تھا۔

لیکن یہاں بھی مسائل تھے۔ مجھے حیض کے دوران پانی کے نل کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے کسی نہ کسی کو مجھے پانی دینا ہوتا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ اس دوران صفائی کا خیال رکھا جانا چاہیے اس لیے میں مالک مکان کے منع کرنے کے باجود گھر کے اندر کا بیت الخلا استعمال کرتی تھی۔

کھلانگا میں ایک مہینہ گزارنے کے بعد میں نے ایک ریڈیو میں کام شروع کر دیا۔ مجھے حیض کے بارے میں اور زیادہ سیکھنے کا موقع ملا۔

جب میرے مالک مکان نے شکایات شروع کر دیں کہ اسے میرے حیض کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے تو میں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ جملا میں عورتوں کو حیض کی وجہ سے گھر کی اوپری منزل کرائے پر نہیں دی جاتی اور یہ رواج تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی موجود ہے۔

Image caption کرشنا مایا اوپادھیایا اپنے کرائے کے کمرے کے سامے کو دروازے کے بالکل پاس ہے

مجھے ریڈیو کرتے ہوئے چھ سال ہو چکے تھے۔ میں اپنے حیض کے دنوں میں اپنے کمرے میں ہی رہتی لیکن میں مالک مکان سمیت کسی کو بتاتی نہیں تھی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ مجھے باہر نکال دیا جائے گا۔ نسلوں سے منتقل ہونے والی معاشرتی خرابی کو ایک شخض تبدیل نہیں کر سکتا۔ تبدیلی اس وقت تک نہیں آتی جب تک معاشرہ اسے قبول نہ کرے۔

جب میں گاؤں میں اپنے گھر جاتی تو حیض کے دنوں میں بھی گھر میں ہی رہتی۔ مں اپنے کمرے میں ہی رہتی۔ میں کچن یا عبادت کے کمرے میں نہیں جاتی۔ خاندان کے سامے بارہا احتجاج کے بعد میں گھر کے باہر بنے کمرے کے بجائے گھر کے اندر رہنے لگی۔

مجھے امید ہے کہ ایک دن ’چوپاڈی‘ کی روایت بھی ’ستیّ‘ (جس میں بیوہ کو شوہر کے ساتھ ہی جلا دیا جاتا تھا) کی روایت کی طرح ختم ہو جائے گی۔

مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ نیپال کے دور دراز علاقوں میں عورتیں چوپاڈی کی وجہ سے جانیں گنوا رہی ہیں۔ میرے گاؤں میں بھی عورتیں گھروں سے باہر بنے کمروں میں رہتی ہیں۔ لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ چوپاڈی پر پابندی عائد ہے لیکن لوگوں کے ذہن نہیں بدلے۔

اسی بارے میں