تمل ناڈو میں جلّی کٹّو پر پابندی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

جلی کٹو
Image caption مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل تمل ناڈر کی پہچان ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ہزاروں افراد بل فائٹنگ سے مشابہ صدیوں پرانے کھیل جلّی کٹّو پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

کم از کم چار ہزار افراد نے منگل کی رات سے ریاستی دارالحکومت چینئی میں ساحل سمندر کے قریب مرینا کے علاقے میں دھرنا دیا ہوا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل تمل ناڈر کی پہچان ہے۔

تاہم سپریم کورٹ نے 2014 میں جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اعتراض کے بعد اس کھیل پر پابندی عائد کر دی تھی اور سنہ 2016 میں اسے چیلنج کیے جانے کے بعد بھی اس پر پابندی برقرار رکھی تھی۔

بی بی سی تامل کے مطابق ایسے ہی مظاہرے ریاست کے دیگر شہروں میں بھی منعقد کیے گئے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے کہا جارہا ہے۔

تمل فلم اداکاروں وجے، جی وی پرکاش کمار اور سوریا سمیت دیگر فنکاروں نے بھی مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اداکار سوریا کا کہنا ہے کہ 'پیٹا (جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم) نے مقدمہ قانون کی عدالت میں جیتا ہے لیکن وہ عوامی عدالت میں ہار چکی ہے۔ ان کا دعویٰ کہ جلی کٹو سے بیلوں کا نقصان پہنچتا ہے بالکل جھوٹ پر مبنی ہے۔ وہ یہ بیلوں پر ظلم کی بات کرتے ہیں لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ جلی کٹو پر پابندی سے وہ اس نایاب چوپائے کو ختم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ J SURESH
Image caption یہ کھیل 2000 سے زائد سال قدیم ہے اور جدید دور میں کھیلا جانے والا قدیم ترین کھیل تصور کیا جاتا ہے

تاہم اداکارہ ٹریشا کرشنن اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کارکنوں نے اسے 'جانوروں پر ظلم' قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کی حمایت کی ہے۔

جلی کٹو روایتی طور پر جنوری کے مہینے میں پونگل تہوار کے موقع پر کھیلا جاتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد بیل کے بیچھے دوڑتے ہیں تاکہ وہ اس کے سینگھوں پر بندھے ہوئے انعامات حاصل کر سکیں۔

تاہم پابندی کے بعد گذشتہ دو سال سے بڑے پیمانے پر یہ کھیل منعقد نہیں کیا گیا۔ تاہم اس سال کچھ لوگوں نے 14 جنوری کو یہ کھیل منعقد کیا اور بعد میں اس نے ریاست میں اھٹجاج کی شکل اختیار کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کارکنوں نے اسے 'جانوروں پر ظلم' قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کی حمایت کی

بی بی سی تمل کے نامہ نگار سیواکمار یو کا کہنا ہے ریاست کی حکومت کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کے مطالبے کو رد کر دیا گیا ہے۔

یہ کھیل 2000 سے زائد سال قدیم ہے اور جدید دور میں کھیلا جانے والا قدیم ترین کھیل تصور کیا جاتا ہے۔

اس پابندی پر ریاست کی سیاسی جماعتوں اور ثقافتی تنظیموں نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ جلی کٹو ان کا ثقافتی ورثہ ہے۔

گذشتہ کئی سالوں کے دوران بہت سے لوگ ان مقابلوں میں زخمی ہو چکے ہیں اور یا پھر جانوروں کے پیروں تلے کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں دیگر افراد، بشمول شائقین، بھی بری طرح زخمی ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں