دیپکا نارائن بھردواج: مردوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی خاتون

دیپکا نارائن بھردواج

انڈیا میں جہاں خواتین کے خلاف جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں وہیں ایک خاتون کارکن دیپکا نارائن بھردواج نے اپنی دستاویزی فلم کے ذریعے مردوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

دلی میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے دیپکا کی کاوش پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

انڈیا میں ہر 15 منٹ کے بعد ریپ کا واقعہ سامنے آتا ہے، پر پانچ منٹ کے بعد گھریلو جھگڑے کی اطلاع ملتی ہے، ہر 69 سیکنڈز میں ایک دلہن کو جہیز نہ لانے پر ہلاک کر دیا جاتا ہے جب کہ ہر سال سینکڑوں خواتین کا اسقاط حمل کروا کر لڑکیوں کو مار دیا جاتا ہے۔ لڑکیوں اور خواتین کو امتیازی سلوک، تعصب اور تشدد کا سامنا ہے۔

انڈیا میں اس صورتِ حال کے باوجود 31 سالہ دیپکا نارائن بھردواج نے کچھ معقول سوالات پوچھے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کیا مرد غیر محفوط نہیں ہیں، کیا انھیں امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہے اور کیا وہ متاثر نہیں ہو سکتے۔؟

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA BHARDWAJ

دیپکا نارائن بھردواج کی لڑائی انڈیا کی دفعہ 498A کے خلاف ہے جو جہیز کے خلاف ایک سخت قانون ہے اور اس قانون کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

انڈیا میں سنہ 1983 میں دہلی اور دیگر حصوں میں جہیز نہ لانے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد 498A کی شق متعارف کروائی گئی تھی۔

اس زمانے میں آئے روز یہ اطلاعات سامنے آتی تھیں کہ نئے نویلی دلہنوں کو ان کے خاوند اور سسرالیوں نے جہیز نہ لانے پر زندہ جلا دیا۔

ان واقعات کے بعد پارلیمان کی رکن خواتین اور کارکنوں نے اس کے خلاف مظاہرے کیے اور پارلیمان کو مجبور کیا کہ وہ اس حوالے سے نیا قانون سامنے لائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA BHARDWAJ

بھردواج اس بات سے متفق ہیں کہ اس قانون کو اچھے ارادے کے ساتھ بنایا گیا تھا تاہم اس نے جان بچانے کے بجائے متعدد جانیں لے لیں۔

بھردواج اس شق کی اکیلی ناقد نہیں ہیں۔

سابق صحافی دیپکا نرائن بھردواج نے سنہ 2012 میں اس حوالے سے 'اپنے ایک ذاتی تجربے کو بیان کیا۔'

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں ان کے ایک کزن کی شادی صرف تین ماہ بعد ہی ختم ہو گئی۔ ان کے کزن کی بیوی نے اپنے شوہر اور خاندان پر تشدد کرنے اور جہیز مانگنے کا الزام عائد کیا۔

بھردواج کے مطابق 'میرے کزن کی بیوی نے ہمارے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا اور اس میں مجھے بھی نامزد کیا کہ میں ان پر باقاعدگی سے تشدد کرتی ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA BHARDWAJ

انھوں نے مزید بتایا 'میرے خاندان نے سکون خریدنے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کی' اگرچہ وہ مقدمہ ختم ہو گیا لیکن 'مجھے سکون نہیں مل سکا۔'

بھردواج کا کہنا ہے 'یہ قانون انتہائی بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کا ایک آلہ بن گیا۔'

ان کی تحقیق انھیں پولیس سٹیشنز اور عدالتوں تک لے گئی یہاں تک کہ ان کا رابطہ 'سیو انڈین فیملی' نامی ایک این جی او کے ساتھ ہو گیا جو مردوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔

بھردواج نے چار سال کے عرصے میں ایک دستاویزی فلم بنائی جس میں مردوں کے خلاف جہیز مخالف قانون کے تحت الزام عائد کیا گیا، ایسے خاوند جنھوں نے برسوں جیل میں گزارے اور جنھیں بعد میں عدالتوں کی جانب سے رہا کر دیا گیا، ایسے نوجوان جنھوں نے اپنی بیویوں کی جانب سے انھیں ہراساں کرنے کے الزامات عائد ہونے کے بعد خود کشی کر لی ، خودکشی کرنے والے ایک خاوند کا ویڈیو پیغام اور ایک نوجوان بینکر کا خودکش نوٹ جس میں انھوں نے یک طرفہ قانون کے بارے میں سوال اٹھایا، جیسے موضوعات شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA BHARDWAJ

انڈیا کے ایک سابق وزیرِ قانون نے اس بات کو تسلیم کیا کہ حکومت اس قانون سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک رکن کو یقین ہے کہ اس قانون میں ہر صورت میں ترمیم کی جانی چاہیے جب کہ ایک دوسری خاتون کا اصرار ہے کہ ایسے مقدمات کی تعداد کم ہے اور اسے تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

بھردواج اس بات پر مصر ہیں کہ اس قانون کا اطلاق صرف مردوں پر نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ آپ اس بات کی تردید نہیں کر سکتے کہ ایسے مقدمات کی تعداد کم ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں لوگ میرے پاس مدد کے لیے آئے اور میں نے انھیں سیو انڈین فیملی نامی این جی او کی جانب بھیج دیا۔

بھردواج کے مطابق انھیں بتایا گیا ہے کہ صرف دہلی میں خواتین کے لیے قائم کی جانے والی ہیلپ لائنز پر 24 فیصد کالیں مصیبت میں پھنسے مردوں کی جانب سے آتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA BHARDWAJ

ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو گئیں اور لوگوں نے خودکشیاں بھی کیں۔

بھردواج کے مطابق انھوں نے ججوں، پولیس اہلکاروں، مجسٹریٹوں، کارکنوں اور عام لوگوں کو یہ دستاویزی فلم دکھائی اور انھیں ناظرین کا بھرپور ردِ عمل ملا۔

بھردواج کا کہنا ہے 'میں اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اسے پارلیمان تک لے جانا چاہتی ہوں تاکہ اس میں تبدیلی لانے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔'

متعلقہ عنوانات