چار سو میں سے سو ٹکٹ مسلمانوں کے

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption 2007 کے انتخابات میں مایاوتی نے 'سوشل اینجینئرنگ' کا ایک غیرمعمولی تجربہ کیا اور بڑی تعداد میں برہمنوں کو ٹکٹ دیے

’بہن‘ مایاوتی کو اگر آپ ٹوئٹر پر تلاش کریں تو کچھ مایوسی اور کچھ فرضی اکاؤنٹ ہی ہاتھ لگیں گے لیکن جن لوگوں کے بل بوتے پر وہ چار مرتبہ انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ بنیں، ان کے پاس سوشل میڈیا پر گزارنے کے لیے زیادہ وقت نہیں۔

یہ سماج کا وہ انتہائی غریب طبقہ ہے جسے دلت کہا جاتا ہے، وہ لوگ جنھیں صدیوں سے بھید بھاؤ کا سامنا رہا ہے اور جن کی آواز بلند کرنے کا بیڑا مایاوتی نے اٹھا رکھا ہے۔

اتر پردیش کی تقریباً بیس فیصد آبادی دلت ہے، اور اس کی ایک بڑی اکثریت مایاوتی کا ووٹ بینک مانی جاتی ہے۔

یو پی میں پھر الیکشن ہونے والا ہے لیکن دوسری قوموں اور ذاتوں کو ساتھ ملائے بغیر ریاستی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لیے 2007 کے انتخابات میں مایاوتی نے ’سوشل اینجینئرنگ‘ کا ایک غیرمعمولی تجربہ کیا۔ انھوں نے بڑی تعداد میں برہمنوں کو ٹکٹ دیے اور اس طبقے کے ساتھ ہاتھ ملا لیا جسے دلتوں کی حالت زار کے لیے ذمہ دار مانا جاتا ہے۔

یہ جرئتمندانہ حکمت عملی تھی جو کامیاب ہوئی اور پہلی مرتبہ پورے پانچ سال کے لیے ریاست کی باگ ڈور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کے ہاتھوں میں آگئی۔ لیکن مایاوتی کی ہمشیہ کوشش مسلمانوں اور دلتوں کو ساتھ لانے کی رہی ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دلتوں کے برابر ہی ہے اور اس مرتبہ مایاوتی نے انھیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے 403 میں سے 97 ٹکٹ مسلمان امیدواروں کو دیے ہیں۔

لیکن مسلمانوں کی محبتوں کے دعویدار اور بھی ہیں، خاص طور پر سماج وادی پارٹی، جس کے بانی ملائم سنگھ یادو کو رام مندر کی تحریک کے دوران مولانا ملائم سنگھ کہا جاتا تھا، اور کانگریس، جو بابری مسجد کی مسماری تک زیادہ تر مسلمانوں کی پہلی پسند ہوا کرتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption مایاوتی انتخابی جلسوں میں بھی لکھی ہوئی تقریریں پڑھتی ہیں اور کوئی شعلہ بیانی نہیں کرتی

لیکن مایاوتی کا کام کرنے کا انداز دوسرے سیاستدانوں سے مختلف ہے۔ ان سے انٹرویو حاصل کرنا تقریباً ناممکن مانا جاتا ہے۔ وہ انتخابی جلسوں میں بھی لکھی ہوئی تقریریں پڑھتی ہیں، کوئی شعلہ بیانی نہیں کرتی، بس تقریر پڑھی ہاتھ ہلایا اور ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دوسرے جلسے کے لیے روانہ ہوگئیں۔ ان کی پارٹی کے ترجمان مشکل سے ہی ٹی وی پر نظر آتے ہیں، انھیں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے لیکن عام طور پر مانا جاتا ہے کہ وہ ایک موثر ناظم ہیں، ان کے دور اقتدار میں امن و قانون کا سختی سے نفاذ کیا جاتا ہے۔

سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کے بعد ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا براہ راست نقصان بی ایس پی کو ہوگا، لیکن ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں، جہاں حلقے چھوٹے ہوتے ہیں اور عام طور پر چند ہزار ووٹوں سے ہار جیت کا فیصلہ ہوجاتا ہے، سہ فریقی مقابلوں میں کوئی پیش گوئی کرنا خطرے سے خالی نہیں۔

میڈیا میں اس وقت ذکر سماجوادی پارٹی اور بی جے پی کا زیادہ ہے، لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اس دوڑ میں بی ایس پی ’ڈارک ہارس‘ ہے، وہ خاموشی سے دوڑ رہی ہے اور اس سے نظر ہٹانا غلط ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں