’انڈین پنجاب میں چھٹا دریا نشے کا بہہ رہا ہے‘

نشئی
Image caption ایک اندازے کے مطابق ریاست پنجاب کے 16 سے 20 فیصد نوجوان نشے کا شکار ہو چکے ہیں

نشے میں دھت ایک خاتون سڑک کے کنارے اپنا سکوٹر روکتی ہیں۔ پیچھے بیٹھی ہوئی خاتوں نیم بےہوشی کی حالت میں سکوٹر سے نیچے گر جاتی ہیں۔ وہ خود اٹھنے کی حالت میں نہیں ہی کیونکہ دونوں ہی مبینہ طور پر نشے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

یہ انڈین پنجاب کے ایک شہر کا منظر ہے جو حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔

پنجاب کے شہروں میں اس طرح کے مناظر عام تو نہیں لیکن یہ ریاست میں نشے کے مسئلے کی سنگینی کا عکاس ضرور ہے اور بتاتا ہے کہ منشیات اور نشے کی عادت نے پنجاب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

ریاستی انتخابات میں مالیر کوٹلہ سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار محمد ارشد ڈالی کہتے ہیں ’پنجاب جو پانچ دریاؤں کی دھرتی ہے وہاں اب چھٹا دریا نشے کا بہہ رہا ہے۔ پنجاب جو پہلے تھا وہ پنجاب نہیں رہا ہے۔ وہ اب ختم ہو گیا ہے۔‘

پنجاب میں منشیات کی لت پر کئی مطالعے کیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ریاست کے 16 سے 20 فیصد نوجوان نشے کا شکار ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت منشیات کی عادی ہے۔

Image caption پنجاب میں چار فروی کو ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کرپشن کے ساتھ ڈرگ ایڈکشن انتخابی مہم کا دوسرا سب سے اہم موضوع ہے

ریاست پنجاب انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے اور یہ دعوے کیے جانتے ہیں کہ افغانستان میں تیار ہونے والی منشیات پاکستان کے راستے سمگل ہو کر یہاں پہنچتی ہیں۔

چندی گڑھ کے سینٹر فار ڈیویلپمنٹ اینڈ کمیونی کیشن کے سربراہ ڈاکٹر پرمود کمار نے بھی پنجاب میں نشے کی صورتحال کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔

’سرحد پر واقع ہونے کے سبب اس کا ایک بین الاقومی زاویہ ہے تاہم ساتھ ہی بین الریاستی زوایہ بھی ہے کیونکہ منشیات اندرون ملک سے بھی یہاں پہنچتی ہیں اور تیسرا سینتھیٹکس ڈرگز کا پہلو ہے۔ تو یہاں تین طرح سے منشیات پہنچ رہی ہیں اور ڈرگز وہیں بکتی ہیں جہاں پیسہ ہوتا ہے۔‘

پنجاب انڈیا کی نسبتاً ایک خوشحال ریاست ہے لیکن زرعی انقلاب کے دو دہائیوں کے بعد یہاں کی معیشت ٹھہر سی گئی ہے۔

Image caption یہ دعوے کیے جانتے ہیں کہ افغانستان میں تیار ہونے والی منشیات پاکستان کے راستے سمگل ہو کر یہاں پہنچتی ہیں۔

منشیات کے خلاف کام کرنے والے حقوق انسانی کے معروف وکیل نوکرن سنگھ کہتے ہیں ’منشیات کی لت کی کئی وجوہات ہیں۔ پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں کی یہاں بہتات ہے ۔ اتر پردیش اور بہار سے زرعی مزدوروں کے آنے کے سبب نوجوان اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ خالی بیٹھے رہتے ہیں پھر معاشرے کے ایک طبقے میں یہ تصور بھی ہے کہ اگر آپ ڈرگز لیتے ہیں تبھی ماڈرن سمجھے جائيں گے۔‘

پنجاب میں چار فروی کو ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لیے مہم اس وقت آخری مرحلے میں ہے۔ کرپشن کے ساتھ ڈرگ ایڈکشن انتخاب کا دوسرا سب سے اہم موضوع ہے۔ کانگریس اور ‏عام آدمی پارٹی دونوں حکمراں جماعت اکالی دل پر منشیات کا غیرقانونی کاروبار کرنے والوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتی ہیں۔

اروند کیجریوال نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ناخدا ہی کشتی ڈبونے پر اتر آئے تو پھر اسے کون بچائے۔ پنجاب کی حکومت اور اس کی پوری انتظامیہ ڈرگ مافیاؤں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔‘

Image caption ڈاکٹر پرمود کمار نے بھی پنجاب میں نشے کی صورتحال کا مطالعہ کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔

کانگریس نے ایک مہینے کے اندر نشے کا غیر قانونی کاروبار بند کرنے کا وعدہ کیا ہے حبکہ حکمراں اکالی دل کا کہنا ہے کہ حریف جماعتیں حکومت کو بدنام کرنے کے لیے نشے کا ہوا کھڑا کر رہی ہیں۔

حکومت کے مطابق جہاں منشیات کی لت چھڑوانے کے لیے پوری ریاست میں ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز کھولے گئے ہیں وہیں منشیات کی عادت سے نجات پانے والے نوجوانوں کو روزگار شروع کرنے کے لیے منصوبے بھی بنائے گئے ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے منشیات کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے اپنے انتخابی منشور میں بڑے بڑے وعدے کیے ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ پرانا ہے اور یکلخت نہیں ختم ہو سکتا اس کے لیے سیاسی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سماج کو سنجیدہ بحث کرنی ہوگی اور اتفاق رائے سے کوئی راستہ نکالنا ہو گا۔