انڈیا: جنسی استحصال کے الزام کے بعد میگھالیہ کے گورنر کا استعفیٰ

شموگناتھن تصویر کے کاپی رائٹ HTTP://MEGGOVERNOR.GOV.IN/
Image caption گورنر پر راج بھون میں لڑکیوں کے جنسی استحصال کا الزام عائد کیا گیا تھا

انڈیا کی ریاست میگھالیہ کے گورنر شموگناتھن نے جنسی استحصال کے الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے گورنر ہاؤس کو تقریباً 'نوجوان لڑکیوں کے کلب میں تبدیل کر دیا ہے‘۔

کولکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹّاشالي نے گورنر کے پرسنل سیکریٹری سوربھ پانڈے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شموگناتھن نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھیج دیا ہے۔

67 سالہ شموگناتھن نے 20 مئی 2015 کو میگھالیہ کے گورنر کا عہدہ سنبھالا تھا اور ستمبر 2016 سے ان کے پاس اروناچل پردیش کے گورنر کا بھی اضافی چارج تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEGHALAYA RAJBHAVAN
Image caption ملازمین کا الزام تھا کہ گورنر کی حرکتوں سے راج بھون کی ساکھ مجروح ہوئی ہے

بدھ کے روز شیلانگ میں راج بھون میں کام کرنے والے تقریباً 80 ملازمین نے وزیر اعظم کے دفتر، صدر پرنب مکھرجی اور وزارت داخلہ کو ایک خط لکھ کر گورنر کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ملازمین کا الزام تھا کہ 'گورنر کی حرکتوں سے راج بھون کی ساکھ مجروح ہوئی ہے اور گورنر ہاؤس کے ملازمین کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔'

اس خط میں لکھا گیا تھا کہ 'راج بھون کے اصول و ضوابط کو شدید طور پر پامال کیا گيا، اس کی ساکھ کو نظر انداز' کیا گيا ہے اور اسے ایک 'ینگ لیڈیز کلب' میں تبدیل کر دیا گيا ہے۔ اس سے راج بھون کے ملازمین کو 'ذہنی تناؤ اور تکلیف' پہنچی ہے۔‘

بدھ کو ہی میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ مکل سنگما نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت داخلہ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں