راہل گاندھی اور اکھیلیش یادو پہلی بار ایک ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption دونوں جواں برس رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کی

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسبملی انتخابات کے پس منظر میں اتوار کا دن سیاسی اعتبار سے سب سے بڑا دن کہا جا سکتا ہے۔

اتوار کو کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو نے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ایک مشترکہ کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر دونوں جواں برس رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ ان کا اتحاد ان لوگوں کو جواب دے گا جنھوں نے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کرکے عوام کو قطار میں کھڑا کر دیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اترپردیش میں پہلا لفظ میں اتّر ہے جس کا ہندی میں مطلب ہوتا ہے ’جواب دینا‘۔ ’یہ جو ہمارا اتحاد قائم ہوا ہے، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان، یہ ایک جواب ثابت ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد موجودہ سیاست کا متبادل ثابت ہوگا

راہل نے کہا: 'یہ ایک طرح سے گنگا اور جمنا کا ملن ہو رہا ہے۔ ترقی کی سرسوتی اسی سے نکلے گی۔ آج ہمارے سامنے نفرت اور غصے کی سیاست ہے۔ یوپی اسی کا جواب دینے جا رہا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اکھلیش اور میرا ذاتی تعلق ہے اور اس اتحاد کے بعد ہمارے سیاسی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔'

راہول نے کہا کہ مودی جی کے الفاظ میں کہیں تو 'یہ تین پی ہیں۔۔۔ پروگریسیو (ترقی پسند) پراسپیرٹی (خوشحالی) اور پیس یعنی (امن)۔

مشترکہ کانفرنس کے بعد دونوں رہنما شہر میں ایک روڈ شو بھی کررہے ہیں۔

آئندہ ماہ اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان اتحاد ہونے کے بعد راہل اور اکھلیش پہلی بار ایک ساتھ انتخابی مہم میں نظر آئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فلم سلطان کے ایک نغمے کے طرز پر اس موقعے پر ایک نیا نعرہ بھی دیا گيا ہے جو 'یوپی کو یہ ساتھ پسند ہے' کی طرح ہے۔

ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی 298 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ ایس پی نے اپنی اتحادی کانگریس کے لیے 105 نشستیں چھوڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption راہل کی بہن پریانکا گاندھی اور اکھیلیش کی اہلیہ ڈمپل یادو یوپی میں سٹار کمپینر ہیں

یہ انتخابات مرکز میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے بھی اہم ہیں اور اس میں ہار جیت سے ملک کی سیاست ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔

گذشتہ عام انتخابات میں بی جے پی نے اس ریاست میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی اور وہ اس بار کے انتخابات میں اسی طرح کی کارکردگی دہرانے کی کوشش میں جی جان سے لگی ہوئی ہے۔

ریاست میں تقریباً 20 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد دلتوں کی ہے۔

سات مراحل میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں 11 فروری کو پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہو گی جب کہ آخری مرحلہ آٹھ مارچ کو ہو گا۔

ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں