انڈیا کا پہلا بجٹ لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا

liaqat تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیاقت علی خان نے اپنی بجٹ تجاویز کو 'سوشلسٹ بجٹ' قرار دیا تھا

انڈیا کا سنہ 1946 کا بجٹ لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا جو ڈیڑھ سال بعد پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے۔

مرکزی قانون ساز اسمبلی میں پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے وزیر خزانہ لیاقت علی خان نے دو فروری کو بجٹ پیش کیا، اسی عمارت میں جسے آج پارلیمنٹ ہاؤس کہا جاتا ہے۔

لیاقت علی خان محمد علی جناح کے خاص ساتھی تھے۔ عبوری وزیراعظم نہرو کی کابینہ میں سردار پٹیل، بھیم راؤ امبیڈکر، بابو جگ جیون رام جیسے قد آور بھی شامل تھے۔

'سوشلسٹ بجٹ'

لیاقت علی تقسیم سے پہلے میرٹھ اور مظفرنگر سے یوپی اسمبلی کے لیے انتخابات بھی لڑتے تھے، ویسے ان کا تعلق کرنال کے راج خاندان سے تھا۔

وہ جناح کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے بڑے رہنما تھے۔ جب عبوری حکومت کی تشکیل ہوئی تو مسلم لیگ نے انھیں اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا۔ انھیں پنڈت نہرو نے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری سونپی تھی۔

لیاقت علی خان نے اپنی بجٹ تجاویز کو 'سوشلسٹ بجٹ' قرار دیا تھا لیکن ان کے بجٹ سے ملک کی انڈسٹری نے کافی ناراضی کا اظہار کیا۔ لیاقت علی خان پر الزام لگا کہ انھوں نے تجاویز بہت ہی سخت رکھیں جس سے کاروباری لوگوں کے مفادات کو چوٹ پہنچی۔

تصویر کے کاپی رائٹ KEYSTONE/GETTY IMAGES
Image caption بھارت کی تقسیم پر دہلی میں ایک کانفرنس کے دوران نہرو، پٹیل، کرپلانی، ماؤنٹبیٹن کے ساتھ لیاقت علی خان

'ہندو مخالف بجٹ'

لیاقت علی خان پر یہ بھی الزام لگا کہ انھوں نے ایک طرح سے''ہندو مخالف بجٹ' پیش کیا ہے۔ انھوں نے تاجروں پر ایک لاکھ روپے کے کل منافع پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی تھی اور کارپوریٹ ٹیکس کو دوگنا کر دیا تھا۔

اپنی متنازع بجٹ تجاویز میں لیاقت علی خان نے ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی نیت سے ایک کمیشن بنانے کا بھی وعدہ کیا۔

کانگریس میں سوشلسٹ ذہن کے رہنماؤں نے ان قراردادوں کی حمایت کی لیکن سردار پٹیل کی رائے تھی کہ لیاقت علی خان گھنشیام داس بڑلا، جمنالال بجاج اور والچد جیسے ہندو تاجروں کے خلاف سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد علی جناح کے ساتھ لیاقت علی خان

تحریک آزادی

یہ تمام صنعتکار کانگریس سے منسلک تھے۔ یہ کانگریس کو مالی مدد دیتے تھے۔

گھنشیام داس بڑلا اور جمنالال بجاج تو گاندھی کے قریبی لوگوں میں تھے۔ بڑلا نے کچھ دیگر صنعت کاروں کے ساتھ مل کر سنہ1927 میں انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹري قائم کی تھی۔ بڑلا دیس کی تحریک آزادی کے کٹر حامی تھے اور مہاتما گاندھی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

ظاہر ہے کہ لیاقت علی خان کے بجٹ کا اثر مسلمان اور پارسی تاجروں پر بھی ہوتا لیکن یہ تو حقیقت تھی کہ کاروبار پر ہندوؤں کا غلبہ تو تب بھی تھا ہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ KEYSTONE/GETTY IMAGES
Image caption تصویر میں بائیں سے دائیں: جمنالال بجاج، دربار گوپل داس دسائی، مہاتما گاندھی اور نیتا جی بوس

عبوری حکومت

ٹاٹا اور گودریج جیسے پارسیوں کے گروپ اس وقت بھی تھے۔ مسلم سماج سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا گروپ فارما سیکٹر کا 'سپلا' تھا۔ اس کے بانی كے حامد تھے۔ وہ بھی گاندھی جی کے حامی تھے۔ اس دور میں سپلا کے علاوہ شاید کوئی بڑا گروپ نہیں تھا جس کی کمان مسلم مینجمنٹ کے پاس ہو۔

لیاقت علی خان پر یہ بھی الزام لگنے لگے کہ وہ عبوری حکومت میں ہندو وزرا کے اخراجات اور تجاویز کو ہری جھنڈی دکھانے میں خاصا وقت لیتے ہیں۔ سردار پٹیل نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ لیاقت علی خان کی اجازت کے بغیر ایک چپراسی بھی مقرر نہیں کر سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1946 کی عبوری حکومت میں شامل رہنما

تقسیم کے بعد

لیاقت علی خان کے دفاع میں بھی بہت سے لوگ آگے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندو مخالف نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کی بیوی گلِ رعنا بنیادی طور پر ہندو خاندان سے ہی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا خاندان ایک عرصہ پہلے عیسائی ہو گیا تھا۔

لیاقت علی خان بجٹ کاغذ آپ ہارڈنگ لین (موجودہ تلک لین) والے گھر سے لے کر مرکزی قانون ساز اسمبلی (موجودہ پارلیمنٹ) کی عمارت گئے تھے۔ ان کی رہائش ملک کے بٹوارے کے بعد انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی سرکاری رہائش کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جس میدان میں لیاقت علی کا قتل ہوا تھا، اسی میدان میں کئی دہائیوں بعد بے نظیر بھٹو بھی ماری گئیں

بے نظیر کا قتل

لیاقت علی خان کو سنہ 1951 میں راولپنڈی میں ایک اجتماع میں گولی مار کر قتل کر دی گیا تھا. قاتل کو تب ہی سکیورٹی اہلکاروں ے مار ڈالا تھا جو ایک افغان شہری تھا۔ جس میدان میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا تھا، اسی میدان میں کئی دہائیوں بعد بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا۔

آزاد ہندوستان کا پہلا بجٹ 26 نومبر، سنہ 1947 کو آر کے شمگم شیٹی نے پیش کیا تھا لیکن یہ ایک طرح سے ملک کی معیشت کا جائزہ ہی تھی۔ اس میں کسی نئے ٹیکس کی تجویز نہیں تھی۔ وجہ یہ تھی کہ 1948-49 کا بجٹ پیش ہونے میں محض 95 دن باقی تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں