’سینکڑوں بچوں کی پرسرار اموات خالی پیٹ لیچی کھانے کی وجہ سے ہوئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ SATISH KUMAR

انڈین ریاست بہار کے ضلع مظفرپور میں گذشتہ دو دہائیوں میں سینکڑوں بچوں کی موت کے بارے میں سائسندانوں کا کہنا ہے کہ ان اموات کی وجہ لیچی میں موجود ایک کیمیکل ہے۔

مقامی لوگ اس بیماری کو 'چمکی' کہتے ہیں اور یہ ہر سال مئی جون میں پھیلتی ہے اور بہت سے بچوں کی جان لے لیتی ہے۔

صرف سنہ 2014 میں 390 بچوں کو اس بیماری کی وجہ سے دو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا جن میں سے 122 کی موت ہو گئی تھی۔

انڈیا اور امریکہ کے سائنسدانوں کی مشترکہ کوششوں سے پتہ چلا ہے کہ خالی پیٹ زیادہ لیچی کھانے کی وجہ سے یہ بیماری ہوتی ہے۔

تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی یہ تحقیق معروف سائنس میگزین لینسیٹ گلوبل میں شائع ہوئی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق لیچی میں ’ہائپو گلائیسین اے‘ نامی زہریلا کیمیکل پایا جاتا ہے۔

ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے زیادہ تر بچوں کے خون اور پیشاب کی جانچ سے پتہ چلا کہ ان میں ان کیمیائی عناصر کی مقدار موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHADILYA

زیادہ تر بچوں نے شام کا کھانا نہیں کھایا تھا اور صبح زیادہ مقدار میں لیچی کھائی تھی۔ ایسی صورت میں ان عناصر کا اثر زیادہ مہلک ہوتا ہے۔

بچوں میں غذائی قلت اور پہلے سے بیمار ہونے کی وجہ بھی زیادہ لیچی کھانے پر اس بیماری کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

ڈاکٹروں نے علاقے کے بچوں کو محدود مقدار میں لیچی کھانے اور اس سے پہلے متوازن غذا لینے کا مشورہ دیا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے اس بارے میں ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

مظفر پور کے علاقے میں لیچی کی پیداوار بہت زیادہ ہے اور یہاں سے دنیا بھر کے بازاروں میں لیچی بھیجی جاتی ہے۔

بیماری کی زد میں آنے والے بچوں کے ماں باپ نے بتایا کہ لیچی کے موسم میں بچے دن کا زیادہ تر وقت لیچی کے باغوں میں گزارتے ہیں اور اس دوران اپنا کھانا پینا بھی بھول جاتے ہیں۔

اسی بارے میں