انڈیا: سڑک حادثے کا ’زخمی شخص تڑپتا رہا، سب ویڈیو بناتے رہے‘

انڈیا کی ریاست کرناٹک کے كوپل ضلع میں بدھ کو ایک سڑک حادثے میں زخمی ہونے والا نوجوان سڑک پر تڑپتا رہا، لیکن کوئی اس کی مدد کو آگے نہیں آیا جبکہ وہاں موجود افراد اپنے موبائل فون پر اس نوجوان کی ویڈیو بنانے میں مصروف رہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق زخمی ہونے والے نوجوان کو قریبی ہسپتال پہنچانے سے قبل وہ تقریباً 25 منٹ تک باہر ہی تڑپتا رہا۔

اس حادثے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں خون سے لت پت نوجوان کو درد سے تڑپتا اور مدد کے لیے پکارتا دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ہر جگہ پھیل چکی ہے۔

جبکہ کیمرے کے پیچھے کھڑے لوگوں کو یہ بات کرتے ہوئے اس ویڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ ’حادثہ سرکاری بس سے ہوا ہے۔ اس معاملے میں سرکاری کیس ضرور بنتا ہے۔ ایسے میں لڑکے کی مدد کرتے وقت، اگر اس کی موت ہو گئی تو مسئلہ بن سکتا ہے‘۔

جمعرات کو مقامی پولیس نے بتایا کہ گذشتہ روز یہ حادثہ اس وقت ہوا جب سترہ سالہ انور علی سائیکل پر بازار جا رہے تھے، جہاں وہ کام کرتے تھے۔

انہیں ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک بس نے ٹکر مار دی تھی۔ انور علی کے بھائی ریاض نے بتایا کہ ’علی کو ایک ایمبولینس سے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’کوئی بھی مدد کو آگے نہیں آیا۔ سب لوگ ویڈیو بنانے اور تصاویر کھینچنے میں لگے تھے، اگر کسی نے مدد کی ہوتی تو میرے بھائی کو بچایا جا سکتا تھا۔ 15-20 منٹ سے زیادہ وقت برباد کر دیا گیا۔‘

حادثے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

خود کو اس واقع کا گواہ بتانے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ’جائے حادثہ پر موجود لوگ حیران تھے، وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ مدد کس طرح کی جائے کیونکہ وہ شخص بری طرح زخمی تھے اور بہت خون بہہ رہا تھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں