گلبدین حکمت یار کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم

تصویر کے کاپی رائٹ DIMITRI KOCHKO/AFP/Getty Images
Image caption گلبدین حکمت یار پر 1992 سے 1996 کے درمیان افغانستان میں جاری خانہ جنگی میں کابل میں ہزاروں لوگوں کو قتل کروانے کا الزام ہے

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے افغانستان کے سابق وزیراعظم اور افغان جنگجو سردار گلبدین حکمت یار کے خلاف پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

انھیں اقوام متحدہ کی طرف سے جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے الزام میں عالمی دہشتگرد قرار دیا گیا تھا۔

پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ افغان حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

افغان حکومت نے یہ درخواست گلبدین حکمت یار کے مسلح گروہ حزب اسلامی کے ساتھ ستمبر میں ہونے والے اس امن معاہدے کے بعد کی تھی جس کے تحت افغان آئین کی حمایت اور تشدد کا راستہ ترک کرنے پر انھیں قانونی کارروائی سے تحفظ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گلبدین حکمت یار تیس برس پہلے افغانستان پر سویت قبضے کے خلاف گوریلا مزاحمت میں شامل رہ

گلبدین حکمت یار تیس برس پہلے افغانستان پر سویت قبضے کے خلاف گوریلا مزاحمت میں شامل رہے تھے۔

گلبدین حکمت یار پر 1992 سے 1996 کے درمیان افغانستان میں جاری خانہ جنگی میں کابل میں ہزاروں لوگوں کو قتل کروانے کا الزام ہے۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ کے اس فیصلے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ تاہم ستبمر میں ہونے والے امن معاہدے کو امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک اور اقوام متحدہ نے امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گلبدین حکمت یار پر اثاثوں کے انجماد، سفری پابندی اور اسلحے کی خریداری پر پابندیوں کا مزید اطلاق نہیں ہوگا۔

گلبدین حمکت یار افغانستان کے سابق وزیراعظم ہیں اور جدید افغان تاریخ کی ایک متنازع شخصیت ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گلبدین حمکت یار افغانستان کے سابق وزیراعظم ہیں اور جدید افغان تاریخ کی ایک متنازع شخصیت ہیں۔

اسی بارے میں