انڈیا میں ٹیکس چوروں کو گرفت میں لانے کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرکاری اعداو و شمار کے مطابق ملک کی 1.25 ارب کی آبادی میں صرف تین کروڑ 70 لاکھ شہری ٹیکس کا سالانہ فارم بھر رہے ہیں۔

انڈیا میں یکم فروری کو ملک کا بجٹ پیش کیا گیا۔ بجٹ سے تین مہینے پہلے نومبر میں حکومت نے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی اور ان کی جگہ نئے نوٹ جاری کر دیے۔ ابتدائی دنوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن حالات اب رفتہ رفتہ معمول پر آرہے ہیں۔

پرانے نوٹوں پر پابندی لگاتے وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اس اچانک قدم کا مقصد ملک کی معیشت سے کالا دھن ختم کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ کتنے مالیت کے نوٹ جمع ہوئے اور کتنا کالا دھن سامنے آیا۔ انھوں نے بتایا کہ نوٹوں کی بندش کے بعد ایک کروڑ سے زیادہ کھاتوں میں لوگوں سے دو لاکھ روپے سے 80لاکھ روپے تک جمع کیے گئے۔

اسی طرح ڈیرھ لاکھ کھاتے ایسے ہیں جن میں 80 لاکھ روپے یا اس سے سے زیادہ جمع کیے گئے۔ انھوں نے یہ کہا کہ نوٹوں پر بندش کے فیصلے سے آنے والے دنوں میں معیشت کو صاف ستھرا بنانے میں کافی فائدہ ہو گا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں جو لوگ ٹیکس ادا کرنے کے زمرے میں آتے ہیں ان کی غالب اکثریت ٹیکس نہیں ادا کر رہی ہے۔

سرکاری اعداو و شمار کے مطابق ملک کی 1.25 ارب کی آبادی میں صرف تین کروڑ 70 لاکھ شہری ٹیکس کا سالانہ فارم بھر رہے ہیں۔

ان میں بھی ایک کروڑ لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنی آمدنی اتنی دکھائی ہے جو ٹیکس کے زمرے میں نہیں آتی۔

پورے ملک میں صرف 1.75 لاکھ شہری ایسے ہیں جنھوں نے اپنی آمدنی پچاس لاکھ روپے سے زیادہ دکھائی ہے۔ دس لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی والے شہریوں کی تعداد انڈیا میں محض صرف 24 لاکھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ کتنے مالیت کے نوٹ جمع ہوئے اور کتنا کالا دھن سامنے آیا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انڈیا دنیا کے ان اوّلین ممالک میں شامل ہے جہاں بہت تیزی سے لکھ پتیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

انڈیا میں گذشتہ پانچ برس میں اوسطاً ہر برس پچاس لاکھ کاریں فروخت ہوئی ہیں۔ دو کروڑ انڈین شہری سیاحت یا بزنس کے سلسلے میں ہر برس غیر ملکی سفر کرتے ہیں۔

اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو واضح ہے کہ جتنے لوگ اس وقت ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان سے کہیں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ٹیکس کے زمرے ميں ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔

ٹیکس ادا کرنے والوں میں اکثریت ملازمت پیشہ افراد کی ہے جن کے ٹیکس ان کی کمپنیاں تنخواہ دینے سے پہلے ہی کاٹ کر حکومت کے خزانے میں جمع کرا دیتی ہیں۔ حکومت اب رفتہ رفتہ ان سبھی شہریوں کو ٹیکس کی گرفت میں لانے کی تدبیر تیار کر رہی ہے جو ابھی تک حکومت کو جل دیتے رہے ہیں۔

انڈیا میں معیشت اور کاروبار کا نظام ایسا ہے جس میں بڑے پیمانے پر نقد پیسے کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ اور نقد پیسے کا حساب کتاب حکومت کے ریکارڈ پر نہیں ہوتا جس کے سبب یہ رقم ٹیکس سے بچ جاتی ہے۔ مودی حکومت نے نئے نوٹ جاری کرنے کے ساتھ کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے نہ صرف لین دین میں کیش کا چلن کم ہو گا بلکہ ہر طرح کی ٹرانزیکشن بھی درج بھی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں بڑا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

حکومت ملک کی الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ سروس ٹیکس کی جگہ اب ایک ٹیکس جی ایس ٹی نافذ کرنے جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہر دوکاندار جو بھی خرید و فروخت کرے گا اس کا خود بخود اندراج ہوگا اور اسے اپنی آمدنی کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد مرکزی حکومت کی سطح پر انتظامیہ کو یقیناً صاف و شفاف بنانے کی موثر کوشش کی ہے۔ اگر وہ لین دین میں کیش کااستعمال کم کرانے میں کامیاب ہوگئے اور ملک ایک ڈی جیٹل معیشت کی طرف اگر جاتا ہے تو ملک سے کرپشن ختم کرنے کی سمت یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

اسی بارے میں