برف پوش چوٹیوں پر افغان لڑکیوں کا مارشل آرٹ

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters

افغانستان کے دارلحکومت کابل کے مغرب میں ایک برف پوش چوٹی پر شاؤلین ووشو کلب کی لڑکیاں تربیتی مشق کر رہی ہیں۔ اس کلب کی سربراہ 20 سالہ سیما اعظمی ہیں۔

یہ ایک قدیم چینی مارشل آرٹ ہے اور ووشو کے کھیل میں نوجوان لڑکیاں تیزی سے حرکت کرتی ، ہوا کو چمکیلی تلواروں سے چیرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters

ایران میں یہ فن سیکھنے کے بعد سیما نے کئی مقابلوں میں میڈلز جیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میری خواہش ہے کہ میری شاگرد بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کریں اور اپنے ملک کے لیے میڈلز جیتیں۔‘

افغانستان میں مارشل آرٹس کی مقبولیت کے باوجود ملک میں خواتین کی کھیلوں میں شرکت انتہائی محدود ہے۔

اس کلب کی تمام لڑکیاں ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہیں جن کی مادری زبان دری ہے۔

وہ ثقافتی و معاشرتی طور پر نسبتا زیادہ روشن خیال ہیں جس کی وجہ سے انھیں گھر سے باہر اس کھیل کی تربیت حاصل کرنے کی آزادی ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters

کابل میں روز مرہ زندگی کے دوران خواتین کو خطرات کا سامنا تو رہتا ہی ہے لیکن وہ اشتعال انگیزی اور تشدد کا سامنا بھی کرتی ہیں۔

اس کلب کی ایک رکن شکیلہ مرادی کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ ہیں جو ہمیں ہراساں کرتے ہیں، لیکن ہم انھیں نظرانداز کرتے ہیں اور اپنے کام پر توجہ رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters

سیما تقریباً ایک سال سے کابل میں پڑھا رہی ہیں اور اپنے والد کے ساتھ کلب کے جم میں ٹریننگ کرتی ہیں۔

اس جم میں سٹنٹ مین حسین صادقی کا ایک بڑا سا پوسٹر لگا ہوا ہے۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے حسین صادقی مارشل آرٹ چیمپیئن ہیں اور وہ ایک فلم میں کام کرنے کے لیے آسٹریلیا چلے گئے ہیں۔

سیما کے والد کو اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ میں نے اس کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ismail/ Reuters